رسائی کے لنکس

logo-print

مذاکرات میں تعطل، شمالی کوریا کا ایک اور میزائل تجربہ


جنوبی کوریا کے شہری شمالی کوریا کی جانب سے کئے گئے تجربات کی ویڈیو دیکھ رہے ہیں۔

جنوبی کوریا کے فوجی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی کوریا نے ایٹمی صلاحیت سے لیس شارٹ رینج میزائلوں کا نیا تجربہ کیا ہے۔

جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے مطابق ان میزائلوں کو مشرقی ساحلی علاقے 'وون سن' کی جانب سے سمندر میں داغا گیا۔ جبکہ ان کی رینج 70 سے 200 کلومیٹر بتائی جا رہی ہے۔

جنوبی کوریا کے حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مل کر شمالی کوریا کے نئے تجربے کی نوعیت کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

یہ تجربہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان اور امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہنوئی ویتنام میں ہونے والی ملاقات کے بعد کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ ملاقات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکی تھی۔

ماہرین کے مطابق شمالی کوریا نے اس تجربے سے اپنا پیغام واضح کر دیا ہے۔ یہ تجربہ اس موقع پر کیا گیا ہے جب امریکہ شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام کو محدود کرنے کے عوض اس پر عائد پابندیاں نرم کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔

ماہرین کے مطابق یہ تجربہ شمالی کوریا کی جانب سے امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں تعطل کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ شمالی کوریا نے عندیہ دیا ہے کہ اگر کوئی پیش رفت نہ ہوئی تو وہ دوبارہ ماضی کی جارحانہ حکمت عملی اپنا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق شمالی کوریہ نے نئے تجربات کر کے امریکہ کو پیغام دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق شمالی کوریہ نے نئے تجربات کر کے امریکہ کو پیغام دیا ہے۔

امریکہ کا ردعمل

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری 'سارہ ساندرس' کے مطابق انہیں شمالی کوریا کے حالیہ اقدام کا علم ہے۔ امریکہ اس ساری صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ کے ساتھ بات چیت میں حالیہ پیش رفت پر محتاط رد عمل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکام کے مطابق دونوں رہنماؤں نے ہفتے کو بذریعہ ٹیلی فون رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا ہے۔

مائیک پومپیو نے جاپان کے وزیر خارجہ سے بھی موجودہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

جاپان کا رد عمل

جاپان کی وزارت خارجہ کے مطابق تاحال وہ اس نتیجے پر نہیں پہنچ سکے کہ کیا شمالی کوریا کے اس اقدام سے جاپان کی قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا ہے یا نہیں۔

شمالی کوریا کے رہنما کم جوگ ان نے گذشتہ سال کہا تھا کہ شمالی کوریا بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا تجربہ نہیں کریں گے۔ تاہم اس کے بعد متعدد بار وہ شارٹ رینج میزائل کے تجربات کر چکا ہے۔

شمالی کوریا کا دعویٰ ہے کہ وہ امریکہ تک ہدف کا نشانہ بنانے والا میزائل تیار کرچکا ہے جس میں چھوٹا ایٹمی ہتھیار نصب کیا جا سکتا ہے۔

امریکہ اور شمالی کوریا کے مابین شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام سے متعلق مذاکرات رواں سال فروری میں ویتنام میں ہوئے تھے۔ تاہم یہ مذاکرات نتیجہ خیز نہیں ہو سکے تھے۔ شمالی کوریا روس کے توسط سے بھی امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرتا رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG