رسائی کے لنکس

logo-print

جوہری مذاکرات سے قبل شمالی کوریا کا ایک اور میزائل تجربہ


شمالی کوریا نے امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات بحال کرنے سے چند روز قبل شمالی کوریا نے ایک اور میزائل تجزبہ کیا ہے۔ جنوبی کوریا کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ یہ میزائل آبدوز سے داغا گیا ہے۔

جنوبی کوریا کے حکام کا کہنا ہے کہ بدھ کو داغے گئے میزائل نے 450 کلو میٹر کا فاصلہ طے کیا۔

جنوبی کوریا کے وزیر دفاع جیونگ کیونگ ڈو نے بدھ کو شمالی کوریا کے میزائل تجربے سے متعلق جنوبی کوریا کی پارلیمانی کمیٹی کو آگاہ کیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ داغا گیا میزائل 1300 کلومیٹر تک اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اُن کے بقول، بظاہر لگتا ہے کہ بدھ کو کیا گیا تجربہ اس میزائل کی کم فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت کو جانچنے کے لیے کیا گیا ہے۔

شمالی کوریا نے ایسے وقت میزائل تجربہ کیا ہے جب شمالی کوریا کی نائب وزیرِ خارجہ چے سون ہی نے منگل کو اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ واشنگٹن اور پیانگ یانگ کے درمیان چار اکتوبر کو ابتدائی رابطے شروع کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔

ماہرین کے مطابق، مذاکرات سے قبل میزائل تجربہ شمالی کوریا کی جانب سے امریکہ کے سامنے اپنی دفاعی صلاحیت کا اظہار ہو سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے جون میں کم جونگ ان سے ملاقات کی تھی۔
صدر ٹرمپ نے جون میں کم جونگ ان سے ملاقات کی تھی۔

شمالی کوریا اقوام متحدہ کی ان قراردادوں کو مسترد کرتا رہا ہے جس میں پیانگ یانگ کو بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی کے حصول سے روکا گیا ہے۔ شمالی کوریا کا یہ مؤقف رہا ہے کہ اسے دفاع کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے درمیان رواں سال فروری میں ہونے والا مذاکرات کا دوسرا دور ناکام رہا تھا۔ مذاکرات کا مقصد شمالی کوریا کو جوہری اور میزائل صلاحیت بڑھانے سے روکنا تھا۔

امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار کے مطابق، انہیں شمالی کوریا کے میزائل تجربے کا علم ہے۔ امریکہ صورتِ حال کا جائزہ لے رہا ہے اور خطے میں موجود اپنے اتحادیوں کے ساتھ رابطے میں ہے۔

جاپان کے وزیرِ اعظم شینزو ایبے نے شمالی کوریا کے میزائل تجربے کی مذمت کرتے ہوئے اسے سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

شمالی کوریا نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے سے قبل طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل اور جوہری تجربات پر کام روک دیا تھا۔ شمالی کوریا کے رہنما اور امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور 2018 میں سنگاپور میں ہوا تھا۔

جولائی میں سرکاری نیوز ایجنسی 'کے سی این اے' نے تصاویر جاری کی تھیں جن میں کم جونگ ان کو جدید آبدوز کا معائنہ کرتے دکھایا گیا تھا، جس سے واضح ہو گیا تھا کہ شمالی کوریا بیلسٹک میزائل کی تیاری جاری رکھے ہوئے ہے۔

رواں سال جنوبی اور شمالی کوریا کے غیر فوجی علاقے میں صدر ٹرمپ اور شمالی کوریا کے رہنما کی ملاقات کے بعد شمالی کوریا کی جانب سے کیا گیا یہ نواں میزائل تجربہ ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG