رسائی کے لنکس

logo-print

شمالی کوریا کا جنوبی کوریا کے ساتھ ہاٹ لائن رابطہ منقطع کرنے کا اعلان


جنوبی کوریا سے رابطے منقطع کرنے کا فیصلہ کم جونگ ان کی بہن اور مشیر کم یو جانگ نے کیا ہے۔ (فائل فوٹو)

شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کے ساتھ ہاٹ لائن رابطہ منقطع کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ پڑوسی ملک کے ساتھ تمام رابطے منقطع کرنے کی طرف یہ پہلا قدم ہے۔

واضح رہے کہ شمالی اور جنوبی کوریا کی افواج اور صدارتی دفاتر کے درمیان رابطوں کے لیے دو ہاٹ لائنز قائم ہیں جہاں روزانہ کی بنیاد پر دونوں ملکوں کے اعلیٰ حکام تبادلۂ خیال کرتے ہیں۔

پیانگ یانگ حکومت گزشتہ کئی روز سے پڑوسی ملک کو دھمکا رہی تھی کہ اگر اس نے شمالی کوریا مخالف لٹریچر اور دیگر سامان سرحد پار بھیجنے والے باغیوں کو نہ روکا تو بین الکوریائی رابطہ دفتر اور دیگر منصوبے بند کر دیے جائیں گے۔

شمالی کوریا کی سرکاری نیوز ایجنسی 'کے سی این اے' نے الزام عائد کیا ہے کہ جنوبی کوریا میں موجود باغیوں کی جانب سے ایسے پیغامات بھیجے جا رہے ہیں جن سے ملک کے سپریم لیڈر کم جونگ ان کے وقار کو ٹھیس پہنچ رہی ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ صورتِ حال کے پیشِ نظر پیانگ یانگ اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ جنوبی کوریا کے حکام کے ساتھ براہِ راست کوئی رابطہ رکھا جائے اور نہ کسی معاملے پر ان سے تبادلۂ خیال کیا جائے کیوں کہ وہ ہماری پریشانیوں میں اضافے کا سبب بنے ہیں۔

سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق جنوبی کوریا سے رابطے منقطع کرنے کا فیصلہ کم جونگ ان کی بہن اور مشیر کم یو جانگ اور حکمران جماعت کے نائب چیئرمین کم یونگ چول نے کیا ہے۔

گزشتہ ہفتے کم یو جانگ نے اپنے ایک بیان میں جنوبی کوریا کے ساتھ فوجی معاہدہ ختم کرنے اور دونوں ملکوں کے درمیان رابطوں کے لیے قائم دفتر بند کرنے کی دھمکی بھی دی تھی۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ برس جنوبی کوریا کے دورے کے موقع پر سرحد عبور کر کے شمالی کوریا کے سربراہ سے ملاقات کی تھی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ برس جنوبی کوریا کے دورے کے موقع پر سرحد عبور کر کے شمالی کوریا کے سربراہ سے ملاقات کی تھی۔

جنوبی کوریا کی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے کہا ہے کہ منگل کی صبح جب شمالی کوریا سے ہاٹ لائن پر روزانہ کی بنیاد پر کیا جانے والا معمول کا رابطہ کیا گیا تو وہاں سے کوئی جواب نہیں آیا اور نہ ہی ملٹری ہاٹ لائن پر کال وصول کی گئی۔

جنوبی کوریا کی بین الکوریائی امور کی ذمہ دار وزارت کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان روزانہ ہاٹ لائن پر رابطہ کمیونی کیشن کا بنیادی حصہ ہے جسے برقرار رہنا چاہیے۔

وزارت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق جنوبی کوریا خطے میں امن اور خوش حالی کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان طے شدہ اصولوں پر عمل درآمد کی کوشش جاری رکھے گا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا بین الاقوامی پابندیوں اور کرونا وائرس کے باعث مشکلات میں گھرا ہوا ہے اور اچانک اس کا جنوبی کوریا سے ہاٹ لائن پر رابطہ منقطع کرنے کا بظاہر مقصد پڑوسی ملک پر دباؤ بڑھانا ہے۔

امریکہ میں قائم ؛قومی کمیٹی برائے شمالی کوریا' کے رکن ڈینئل ورٹس نے کہا ہے کہ رابطے منقطع کرنا شمالی کوریا کا بھیانک کھیل ہے اور یہ خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔

انہوں نے منگل کو اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ بحران کے دوران کمیونی کیشن چینلز کی ضرورت پڑتی ہے اور موجودہ حالات میں شمالی کوریا کا جنوبی کوریا سے رابطہ منقطع کرنے کا مقصد ایسا ماحول پیدا کرنا ہے جس میں خوف کا عنصر غالب ہو۔

جنوبی کوریا سے رابطے منقطع کرنے کے شمالی کوریا کے فیصلے سے خطے کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کی کوششوں کو بھی دھچکا لگا ہے۔

امریکہ نے شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے خاتمے کی صورت میں اس پر عائد کردہ بین الاقوامی پابندیوں میں نرمی کا اعلان کیا تھا۔ اس سلسلے میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے سربراہ کم جانگ ان کے درمیان بالمشافہ دو ملاقاتیں بھی ہو چکی ہیں۔

گزشتہ دو برسوں کے دوران کم جونگ ان اور جنوبی کوریا کے صدر کے درمیان بھی تین ملاقاتیں ہوئی ہیں جن میں دونوں رہنماؤں نے تعلقات میں بہتری پر اتفاق کیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG