رسائی کے لنکس

logo-print

میزائل تجربات معمول کی مشق تھے: شمالی کوریا


فائل فوٹو

شمالی کوریا نے واضح کیا ہے کہ اس نے گزشتہ ہفتے کیے جانے والے راکٹ اور کم فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل کے تجربات معمول کی دفاعی فوجی مشق کے سلسلے میں کیے تھے جس پر کسی کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔

شمالی کوریا کی فوج نے جمعرات کو اپنے ایک وضاحتی بیان میں میزائل تجربات پر جنوبی کوریا کے اظہارِ تشویش کو مسترد کرتے ہوئے اسے غیر ضروری قرار دیا ہے۔

شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کی جانب سے شائع کیا جانے والا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب جنوبی کوریا، امریکہ اور جاپان کے اعلیٰ حکام نے سول میں ملاقات کی ہے جس میں شمالی کوریا کے حالیہ میزائل تجربات اور سکیورٹی سے متعلق دیگر امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

تینوں ملکوں کے حکام نے اس اجلاس کی کوئی تفصیل تاحال ذرائع ابلاغ کو جاری نہیں کی ہے۔

شمالی کوریا کی وزارتِ خارجہ نے بھی ایک بیان میں اختتامِ ہفتہ کیے جانے والے میزائل تجربات کو "معمول کی اور اپنے دفاع میں کی جانے والی فوجی مشق" قرار دیا ہے۔

وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پیانگ یانگ واشنگٹن کے ساتھ جاری جوہری مذاکرات میں آنے والے تعطل پر "حتی الامکان تحمل" کا مظاہرہ کر رہا ہے۔

بیان کے مطابق ایسے میں شمالی کوریا کی جانب سے اپنی خودمختاری اور اپنے دفاع کے حق کے قانونی استعمال پر "بے بنیاد الزامات" کے نتیجے میں صورتِ حال وہ رخ اختیار کرسکتی ہے جو کوئی فریق بھی کسی قیمت پر نہیں چاہتا۔

جنوبی کوریا کے ایوانِ صدر اور وزارتِ دفاع نے ہفتے کو کیے جانے والے میزائل تجربات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ دونوں کوریاؤں کے درمیان گزشتہ سال طے پانے والے معاہدے کی خلاف ورزی ہے جس کے تحت دونوں ملکوں نے معاندانہ اقدامات نہ کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

جنوبی کوریا کی حکومت نے پڑوسی ملک پر زور دیا تھا کہ وہ ایسے اقدامات سے باز رہے جن کے نتیجے میں کشیدگی کو ہوا ملنے کا اندیشہ ہے۔

شمالی کوریا کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے اتوار کو بعض تصاویر اور ویڈیوز جاری کی تھیں جن میں کم جونگ ان ایک روز قبل کیے جانے والے میزائل اور راکٹ تجربات کا معائنہ کر رہے تھے۔

اس سے قبل جنوبی کوریا کی فوج نے کہا تھا کہ شمالی کوریا نے اپنے مشرقی قصبے وون سان سے کئی راکٹ سمندر میں فائر کیے ہیں۔ بعد ازاں ماہرین نے کہا تھا کہ راکٹوں کے علاوہ شمالی کوریا نے کم فاصلے تک مار کرنے والے ایک بیلسٹک میزائل کا بھی تجربہ کیا تھا ۔

یہ 500 سے زیادہ دنوں کی خاموشی کے بعد پیانگ یانگ کی جانب سے کسی بیلسٹک میزائل کا پہلا تجربہ تھا جو مبصرین کے مطابق امریکہ کے ساتھ اس کے تعلقات میں آنے والی سرد مہری پر شمالی کوریا کی برہمی ظاہر کرتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG