رسائی کے لنکس

امریکہ ہمارا صبر نہ آزمائے، شمالی کوریا


فائل فوٹو

شمالی کوریا نے کہا ہے کہ اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے اور امریکہ کو ہر صورت جوہری معاملے پر مذاکرات کے لیے اپنا رویہ بدلنا ہو گا۔

شمالی کوریا کی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر امریکہ اپنا رویہ نہیں بدلے گا تو گزشتہ برس جوہری تنصیبات کے خاتمے سے متعلق طے ہونے والے معاہدے کی حیثیت محض کورے کاغذ کی ہو کر رہ جائے گی۔

شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ اس کے صبر کی ایک حد ہے اور امریکہ کےلیے بہتر ہو گا کہ وہ اس کی درخواست کا مناسب انداز میں جواب دے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ ان کے درمیان گزشتہ فروری میں ویت نام میں ہونے والی سربراہ ملاقات بغیر کسی سمجھوتے کے ختم ہو گئی تھی۔ اس ملاقات میں شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے خاتمے سے متعلق اقدامات اور امریکی پابندیوں کے خاتمے سے متعلق اختلافات ابھر کر سامنے آئے تھے۔ اس کے بعد سے امریکہ اور شمالی کوریا کے اہل کاروں کے درمیان کوئی ملاقات نہیں ہوئی ہے۔

امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سربراہ ملاقات کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت کے حوالے سے مکمل خاموشی رہی ہے۔ تاہم، شمالی کوریا کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے سٹیفن بیجن نے شمالی کوریا کے نائب وزیر خارجہ چو سون ہوئی کو بھیجے گئے ایک مراسلے میں بات چیت دوبارہ شروع کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ تاہم، شمالی کوریا کی جانب سے فی الحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

اس سے قبل شمالی کوریا سے کچھ ایسی اطلاعات بھی آئی تھیں کہ سربراہ ملاقات کی ناکامی کے بعد امریکہ کے لیے شمالی کوریا کے اعلیٰ ترین نمائندے کم ہیوک چول کو سزائے موت دے دی گئی تھی۔ تاہم، منگل کے روز سی این این نے اطلاع دی کہ کم ہیوک چول زندہ ہیں۔ لیکن، وہ زیر حراست ہیں اور سربراہ ملاقات کے حوالے سے ان کے کردار کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔

صدر ٹرمپ یہ کہتے رہے ہیں کہ شمالی کوریا کے لیڈر کم کے ساتھ ان کا مثبت رابطہ قائم ہے۔ وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے بھی اپریل میں کہا تھا کہ صدر ٹرمپ چیئرمین کم کو تصاویر اور خط بھیجتے رہتے ہیں اور انہوں نے کم کے دادا کی سالگرہ پر بھی مبارکباد کا پیغام بھیجا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG