رسائی کے لنکس

logo-print

کائیسانگ کمپلیکس کے متنازع امور پر شمالی و جنوبی کوریا کا اجلاس


جنوبی کوریا کا اصرار ہے کہ اجرتوں میں کسی بھی طرح کی تبدیلی کا تعین باہمی معاہدے سے کیا جانا چاہیئے۔

شمالی اور جنوبی کوریا کے مشترکہ صنعتی کمپلیکس میں اجرتوں کے ایک دیرینہ تنازع کے حل کے لیے دونوں ملکون کے عہدیداروں کے درمیان ملاقات جمعرات کو ہو گی۔

جنوبی کوریا کا ایک وفد جمعرات کی صبح کائیسانگ کے صنعتی کمپلیکس کے لیے روانہ ہوا جو دونوں ملکوں کی کشیدہ سرحد کے پار شمالی کوریا میں واقع ہے۔

جنوبی کوریا کے وفد کے سربراہ لی سانگ من نے کہا کہ جون کے بعد اس کمیشن کا یہ پہلا اجلاس ہو گا جو اس صنعتی کمپلیکس کے معاملات مشترکہ طور پر چلانے کا ذمہ دار ہے۔

"آج کی مشترکہ ملاقات تقریباً ایک سال میں (اس کمیشن کی) پہلی ملاقات ہے۔ ہم کیسانگ صنعتی کمپلیکس کے معاملات کو معمول پر لانے کے لیے زیر التوا معاملات پر بات کریں گے اور مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کی کوشش کریں گے"۔

شمالی کوریا کی طرف سے کمپلیکس کے کارکنوں کی کم سے کم ماہانہ اجرت 70.35 ڈالر سے بڑھا کر 74.00 ڈالر کرنے کے بعد دونوں فریق کئی ماہ سے اس تنازع میں الجھے ہوئے ہیں۔

جنوبی کوریا کا اصرار ہے کہ اجرتوں میں کسی بھی طرح کی تبدیلی کا تعین باہمی معاہدے سے کیا جانا چاہیئے۔

اس صنعتی کمپلیکس میں جنوبی کوریا کی 120 فیکٹریوں میں شمالی کوریا کے 53,000 سے زائد کارکن کام کرتے ہیں۔ اس کمپلیکس نے 2004ء میں کام کرنا شروع کیا۔

اس خدشے کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے کہ اگر یہ تنازع بڑھتا ہے تو کائیسانگ کی فیکٹریوں کو عارضی طور پر بند بھی کیا جا سکتا ہے۔ پیانگ یانگ نے اس کمپلیکس کو 2013ء میں سفارتی کشیدگی کے دور میں بند کر دیا تھا۔

یہ کمپلیکس وسائل کی کمی کا شکار شمالی کوریا کے لیے آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہے جو اپنے کارکنوں کی طرف سے حاصل کی گئی اجرتوں کا زیادہ تر حصہ اپنے پاس رکھ لیتا ہے۔

XS
SM
MD
LG