رسائی کے لنکس

logo-print

شمالی وزیرستان: دھرنا ختم، مظاہرین کے مطالبات منظور


قبائلیوں کے دھرنے میں قبائلی علاقوں سے ارکانِ قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر نے بھی شرکت کی تھی۔

شمالی وزیرستان میں حکام اور قبائلی جرگے میں کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد سکیورٹی اہلکاروں کے خلاف ہفتے سے جاری دھرنا ختم ہوگیا ہے۔

دھرنے کے خاتمے کا اعلان اتوار کو شمالی وزیرستان سے منتخب رکنِ قومی اسمبلی محسن داوڑ نے کیا۔

محسن داوڑ ان 30 سے زائد قبائلی رہنماؤں کے جرگے کی قیادت کر رہے تھے جس نے ضلعی ہیڈ کوارٹر میران شاہ میں اعلٰی سول اور فوجی حکام سے مذاکرات کیے۔

دھرنے کے خاتمے اور مطالبات کے منظوری کے بارے میں جرگے میں شامل قبائلی رہنما ملک غلام نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ حکام نے جمعے کو سکیورٹی اہلکاروں کے مبینہ فائرنگ سے ہلاک ہونے والوں کے لواحقین اور زخمیوں کو معاوضے کی ادائیگی کا یقین دلایا ہے۔

ملک غلام کے بقول سکیورٹی اداروں نے احتجاج کے دوران گرفتار کیے جانے والے ایک شحص کو رہا کردیا ہے جب کہ زیرِ حراست دیگر دو افراد کو مقامی سول عدالت میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

حکام نے قبائلی جرگے کا یہ مطالبہ بھی تسلیم کرلیا ہے کہ تشدد یا دہشت گردی کے کسی بھی واقعے کے ردِ عمل میں گھر گھر تلاشی نہیں لی جائے گی اور عام لوگوں کو گرفتار نہیں کیا جائے گا۔

شمالی وزیرستان کے علاقے ہمزونی میں جمعے کو مقامی افراد کی جانب سے غیر قانونی گرفتاریوں کے خلاف احتجاج کے دوران سکیورٹی اہلکاروں نے مبینہ طور پر فائرنگ کی تھی جس سے ایک شخص ہلاک اور 10 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

بعد ازاں فائرنگ کا ایک زخمی دورانِ علاج دم توڑ گیا تھا۔ واقعے کے خلاف مقامی قبائل نے شمالی وزیرستان کے ڈسٹرکٹ اسپتال کے سامنے دھرنا دے دیا تھا جس میں اطلاعات کے مطابق ہزاروں افراد شریک تھے۔

مظاہرین فائرنگ کرنے والے اہلکاروں کے کورٹ مارشل کا مطالبہ کر رہے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG