رسائی کے لنکس

logo-print

شمالی وزیرستان: حکومت سے معاہدہ طے پانے کے بعد دھرنا ختم


دھرنے کے شرکا کے نمائندوں اور حکام کے درمیان جمعرات کو مذاکرات ہوئے تھے۔

احتجاجی دھرنے میں شریک قبائلی رہنمائوں پر مشتمل وفد نے جمعرات کو پاکستانی فوج کے شمالی وزیرستان میں تعینات جنرل آفیسر کمانڈنگ اور پولیٹیکل ایجنٹ سے مذاکرات کیے تھے۔

شمالی وزیرستان کے دوسرے بڑے قصبے میر علی میں پانچ روز سے جاری احتجاجی دھرنا جمعرات کی شام حکومت اور قبائلی رہنمائوں کے درمیان معاہدہ طے پانے کے بعد ختم ہوگیا ہے۔

احتجاجی دھرنے میں شریک قبائلی رہنمائوں پر مشتمل وفد نے جمعرات کو پاکستانی فوج کے شمالی وزیرستان میں تعینات جنرل آفیسر کمانڈنگ اور پولیٹیکل ایجنٹ سے مذاکرات کیے تھے۔

بات چیت کے دوران قبائلی رہنمائوں نے فوجی اور سول حکام کو احتجاجی دھرنے کے شرکا کے تحفظات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا احتجاج علاقے میں تشدد کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے خلاف ہے۔

قبائلی رہنمائوں نے حکام کو یاد دلایا کہ 15 جون 2014ء کو شروع کیے جانے والے آپریشن ضربِ عضب کے دوران قبائلیوں کا تمام اسلحہ سکیورٹی فورسز نے اپنے قبضے میں لیا تھا اور اب وہ اپنی حفاظت خود نہیں کرسکتے۔

مذاکرات کے بعددونوں فریقوں نے ایک پانچ نکاتی تحریری معاہدے پر اتفاق کیا ہے جس پر دونوں جانب سے دستخط کیے گئے ہیں۔

معاہدے کے مطابق حالیہ ٹارگٹ کلنگ کی روک تھام کے لیے پاک فوج اور پولیٹیکل انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ ہرگائوں میں پولیٹیکل انتظامیہ اور پاک فوج کے اہلکار مشترکہ گشت کریں گے جب کہ آبادیوں کے داخلی اور خارجی راستوں پر بھی اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔

معاہدے میں کہا گیا ہے کہ رمضان المبارک کے دوران تراویح، سحری و افطار کے اوقات میں سکیورٹی کا خصوصی انتظام کیا جائے گا۔

قبائلی رہنماؤں نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ آپریشن میں متاثر ہونے والے گھروں کے معاوضے کا معاملہ پاک فوج کے جی او سی نے وزیرِ اعظم اور دیگر متعلقہ حکام تک پہنچایا ہے جنہوں نے اس مسئلے کو جلد حل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

معاہدے میں طے پایا ہے کہ دیہات کی سطح پر خاصہ داروں کو اسلحہ فراہم کرنے کے لیے کور ہیڈ کوارٹر کے ساتھ بات چیت کی جائے گی تاکہ عوام اور علاقے کی حفاظت کو یقینی بنایا جاسکے۔

معاہدے میں حکام نے قبائلیوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ مستقبل میں تمام جرگوں میں وزیرستان کے نونجواںوں کی نمائندگی کو یقینی بنایا جائے گا۔

فوجی آپریشن ضربِ عضب کے دوران شمالی وزیرستان سے لاکھوں قبائلیوں کو نقل مکانی کرنا پڑی تھی۔ اس آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے گھر گھر تلاشی مہم کے دوران عام قبائلیوں کا اسلحہ بھی جمع کرلیا تھا اور اب قبائلیوں کے بقول ماضی کے برعکس ان کے پاس اپنی جان و مال کی حفاظت کے لیے بھی اسلحہ نہیں ہے۔

فوجی آپریشن کے بعد سے علاقے میں ہر قسم کا اسلحہ لے کر گھومنے پھرنے اور نمائش کرنے پر بھی پابندی ہے۔

فوجی آپریشن کے خاتمے اور نقل مکانی کرنے والوں کی واپسی کے بعد جمعرات کو طے پانے والا معاہدہ حکومت اور قبائلیوں کے درمیان پرتشدد وارداتوں بالخصوص ٹارگٹ کلنگ کی روک تھام کے لیے پہلا معاہدہ ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG