رسائی کے لنکس

logo-print

خواتین کا معیار زندگی: پاکستان 167 ممالک کی فہرست میں 164 ویں نمبر پر


فائل فوٹو

ناروے اور سوئٹزر لینڈ خواتین کے معیار زندگی کے حوالے سے دنیا کے بہترین اور یمن و افغانستان بدترین ممالک ہیں جب کہ پاکستان 167 ممالک کی فہرست میں 164 ویں نمبر پر ہے۔

جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ برائے خواتین اور پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اوسلو کی تحقیقاتی رپورٹ میں سامنے آیا کہ فہرست میں پاکستان سے نیچے صرف تین ممالک ایسے ہیں جن میں خواتین کا معیارِ زندگی پاکستان سے خراب ہے۔

دونوں اداروں کی رپورٹ سے اخذ کردہ نتائج کے مطابق دنیا کے 60 ممالک میں خواتین کا معیار زندگی بہتر ہوا ہے جب کہ یمن اور جنگ زدہ دیگر ممالک میں خواتین کا معیاز زندگی خراب ہوا ہے۔

جارج ٹاؤن انسٹی ٹیوٹ کے مینیجنگ ڈائریکٹر اور ممتاز مصنف جینی کلوگمین کا کہنا ہے کہ دنیا کے تمام ممالک میں خواتین کا معیار زندگی یکساں نہیں کہیں صورت حال بہت اچھی تو کہیں بہت خراب ہے۔

تھامسن رائٹرز فاؤنڈیشن کے مطابق 2017 سے لے کر اب تک 167 ممالک کے جائزے کے بعد ایک فہرست تیار کی گئی ہے۔ اس میں شامل سرفہرست 10 ممالک میں ناروے، سوئٹرز لینڈ، فن لینڈ، ڈنمارک، آئس لینڈ، آسٹریا، برطانیہ، لکسمبرگ، سوئیڈن اور نیدر لینڈ شامل ہیں۔

جن ممالک میں خواتین کا معیار زندگی خراب ہے ان میں یمن، افغانستان، شام، جنوبی سوڈان، عراق، جمہوریہ کانگو، سینٹرل افریقن ری پبلک، مالی، لیبیا اور پاکستان شامل ہیں۔

پاکستان کو اس فہرست میں 164واں نمبرحاصل ہے جبکہ افغانستان 166 ویں، بھارت 133 ویں اور یمن سب سے آخری یعنی 167 ویں نمبر پر ہے۔

رپورٹ کے مطابق سعودی عرب ایسے ممالک میں شامل ہے جہاں خواتین کے خلاف سب سے زیادہ قانونی امتیاز برتا جاتا ہے۔ اس فہرست میں سعودی عرب کے بعد یمن، سوڈان، شام اور متحدہ عرب امارت شامل ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قانونی امتیاز کا مطلب یہ ہے کہ عالمی سطح پر دو ارب 70 کروڑ خواتین کو مردوں کی طرح ملازمتوں میں کام کرنے سے روکا جاتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG