رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی: گینگ وار سرغنہ پولیس مقابلے میں ہلاک


فائل فوٹو

کراچی کئی دہائیوں سے بھتہ خوری، گینگ وار اور اغواء جیسےسنگین جرائم میں مبتلا رہا ہے۔ ان جرائم کے خاتمے کے لئے پولیس اور رینجرز تواتر سے ان جرائم کی آماجگاہ رہنے والے علاقے ’لیاری‘ میں آپریشن کرتے رہے ہیں۔

ان آپریشنز کے دوران پولیس اور جرائم پیشہ افراد کے درمیان پولیس مقابلوں میں گینگ وار کے اب تک کئی سرغنہ مارے جاچکے ہیں ۔

انہی میں سے ایک بدنام ترین گینگ وار سرغنہ غفار ذکری اپنے بیٹے اور قریبی ساتھی ’چھوٹا زائد‘سمیت جمعرات کی صبح پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگیا ۔

ڈی آئی جی ساؤتھ جاوید اوڈھو نے پولیس مقابلے میں تین ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ غفار ذکری پولیس کو متعدد مقدمات میں مطلوب تھا ۔ اس کے بارے میں خفیہ اطلاعات ملی تھیں کہ وہ پچھلے کئی دنوں سے علی محمد محلے میں موجودہے ۔ اس اطلاع پر جمعرات کی صبح پولیس نے رینجرز کے ہمراہ علاقے کا گھیراؤ کیا تو ملزمان نے ان پر فائرنگ شروع کردی ۔ پولیس پر دستی بم بھی پھینکے گئے تاہم ایک گھنٹے کی کوششوں کے بعد پولیس اور رینجرزکو جرائم پیشہ افرادکے خلاف کامیابی ملی۔

اس دوران دو ملزمان ،ایک بچہ ہلاک اور دو پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔جاوید اوڈھو کے مطابق ہلاک ہونے والا تین سالہ بچہ غفار ذکری کا بیٹا تھاجسے غفار ذکری نے پولیس محاصرے کے دوران ڈھال بنا کر فرار ہونے کی کوشش کی تھی لیکن اسے کامیابی نہیں مل سکی ۔

غفار ذکری کی گرفتاری پر پولیس نے 25 لاکھ روپے انعام بھی مقرر کیا ہوا تھا ۔وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے شروع کئے گئے ’کراچی آپریشن‘ کے بعدسے روپوش تھا جبکہ پولیس مسلسل اس کی تلاش میں تھی۔

گینگ وار میں اب تک جو بڑے سرغنہ پولیس مقابلوں میں مارے جاچکے ہیں ان میں عبدالرحمٰن عرف ’ڈکیت‘، ارشد پپو اور بابا لاڈلہ شامل ہیں جبکہ گینگ وار کا سب بڑا سرغنہ عذیر بلوچ کو کہاجاتا ہے جو کافی عرصے سے پولیس اور رینجرز کی تحویل میں ہے اور اس سے تاحال تفتیش جاری ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG