رسائی کے لنکس

جاسوسی کا الزام، عزیر بلوچ کو فوج نے تحویل میں لے لیا


عزیر بلوچ کو جنوری 2016ء میں رینجرز نے حراست میں لیا تھا۔

پاکستان میں پولیس کے زیر حراست مختلف خطرناک جرائم میں ملوث لیاری گینگ وار کے بدنام زمانہ ملزم عزیر بلوچ کو جاسوسی کے الزام میں فوج نے اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ "آئی ایس پی آر" کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے بدھ کو علی الصبح ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں بتایا کہ عزیر بلوچ کو پاکستان آرمی ایکٹ/آفیشل ایکٹ مجریہ 1923ء کے تحت تحویل میں لیا گیا۔

ان کے بقول عزیر پر جاسوسی، سلامتی سے متعلق حساس معلومات غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو فراہم کرنے کا الزام ہے۔

عزیر بلوچ پر کراچی کے مختلف تھانوں میں قتل، اقدام قتل اور پولیس پر حملوں سمیت مختلف جرائم میں ملوث ہونے کے الزام میں لگ بھگ 35 مقدمات درج تھے۔

تقریباً ایک سال تک منظر سے غائب رہنے کے بعد وہ 2015ء میں اچانک دبئی میں نمودار ہوا جہاں انٹرپول کے ذریعے اس کی گرفتاری کی خبریں منظر عام پر آئیں۔

لیکن اس کے بعد جنوری 2016ء میں سندھ رینجرز نے اسے کراچی سے گرفتار کرنے کا بتایا۔ عدالت نے عزیر بلوچ کو ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا اور اس پر عائد الزامات کی تحقیقات کے لیے ایک مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔

گوکہ سرکاری طور پر عزیر بلوچ پر جاسوسی کے الزام کی مزید تفصیل تو فراہم نہیں کی گئی لیکن مقامی ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ گزشتہ سال گرفتار ہونے والے مبینہ بھارتی جاسوس کُلبھوشن یادیوو سے کی گئی تحقیقات میں مقامی سہولت کاروں کے نام بھی تفتیش کاروں کو معلوم ہوئے تھے اور بظاہر عزیر بلوچ کو اسی تناظر میں فوج نے تحویل میں لیا ہے۔

سلامتی کے امور کے ماہر اور سابق وفاقی سیکرٹری داخلہ تسنیم نورانی کہتے ہیں کہ جاسوسی اور تخریبی کارروائیوں کا جو اعتراف کلبھوشن کی طرف سے سامنے آیا تھا اس میں یقیناً اسے مقامی سطح پر معاونت حاصل رہی ہو گی اور عزیر بلوچ سے متعلق فوج کا دعویٰ یہ ظاہر کرتا ہے کہ حکام ایسے معاملات سے صرف نظر نہیں کر رہے بلکہ سنجیدگی سے کارروائی کر رہے ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں انھیں نے اسے ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔

"بین الاقوامی برادری کے سامنے ثبوت پیش کرنا ضروری ہے وہ بندے سامنے لانا ضروری ہے بے شک وہ اپنے ہی بندے ہوں جن کو غیر ملکی استعمال کر رہے ہیں۔ ایک اچھی پیش رفت ہے اور اللہ کرے جو بین الاقوامی دوست ہیں جو غیر جانبدارانہ کردار ادا کرتے ہیں بھارت اور پاکستان کے درمیان ان کو بھی احساس ہو کہ یہ عام جاسوسی سے زیادہ کچھ ہو رہا ہے جسے روکا جانا ضروری ہے۔"

ایک روز قبل ہی کُلبھوشن یادیوو کو ایک فوجی عدالت کی طرف سے جاسوسی کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی تھی جس پر بھارت کی طرف سے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کو سزائے موت پر عملدرآمد سے باز رہنے کی تنبیہہ کی گئی۔

لیکن اسلام آباد، نئی دہلی کے اس ردعمل کو مسترد کرتے ہوئے کہہ چکا ہے کہ مبینہ بھارتی جاسوس کو شفاف مقدمے کے بعد سزا سنائی گئی۔

بدھ کو ہی وفاقی کابینہ کے رکن طارق فضل چودھری نے اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ بھارت اور دنیا کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ کُلبھوشن کو مروجہ قوانین کے تحت سزا سنائی گئی اور اس میں کوئی امتیازی سلوک نہیں برتا گیا۔

"ہم نے قوانین کو تبدیل نہیں کیا یہ پاسکتان کے وہ قوانین ہیں جس کے تحت یہ سزا ہوئی ہے اور آئندہ بھی اگر کوئی ایسا کرے گا تو اس کو بھی یہی سزا ہوگی۔"

بھارت یہ تسلیم کرتا ہے کہ کلبھوشن اس کا شہری اور بحریہ کا سابق افسر ہے لیکن وہ اسلام آباد کے اس دعوے کو مسترد کرتا ہے کہ یہ شخص بھارتی خفیہ ایجنسی "را" سے منسلک ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG