رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستانی فوج کو ممکنہ بھارتی جارحیت کا جواب دینے کی اجازت


پاکستان نے کہا ہے کہ بھارتی زیر کنٹرول کشیمر کے علاقے پلوامہ کے حملے میں ریاستِ پاکستان کسی صورت ملوث نہیں ہے اور یہ کہ اس حملے کی منصوبہ بندی مقامی سطح پر ہوئی تھی۔ وزیر اعظم عمران خان نے ملک کی مسلح افواج کو بھارت کی جانب سے کسی بھی جارحیت کا جامع اور فیصلہ کن جواب دینے کا اختیار دے دیا ہے۔

اسلام آباد میں پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس وزیر اعظم عمران خان کی صدرات میں ہوا۔ اجلاس میں بھارت کے زیر انتظام کشیمر میں پلوامہ حملے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی اور عالمی عدالت میں کلبھوشن کے مقدمے کی سماعت سمیت دیگر سیکورٹی چیلنجز کا جائزہ لیا گیا۔

ساڑھے تین گھنٹے تک جاری رہنے والے اجلاس میں کابینہ کے اہم اراکین، فوج کے سربراہ جنرل قمر باجوہ، خفیہ اداروں کے سربراہان سمیت اعلیٰ فوجی قیادت نے شرکت کی۔

قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پلوامہ واقعے کی منصوبہ بندی اندرونی سطح پر ہوئی اور اس میں پاکستان کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے بھارت کو اس حملے کی تحقیقات کے ساتھ ساتھ دہشت گردی سمیت تمام مسائل پر بات چیت کرنے کی پیش کش کی ہے اور پاکستان کو توقع ہے بھارت اس پیشکش کا مثبت جواب دے گا۔

پاکستان کے وزیر اعظم نے بات چیت کی پیشکش کے باوجود ملک کی مسلح افواج کو بھارت کی جانب سے کسی بھی جارحیت کا جامع اور فیصلہ کن جواب دینے کا اختیار سونپ دیا ہے۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پلوامہ میں ایک خود کش حملے میں بھارت کی وفاقی پولیس کے کم از کم 49 ارکان ہلاک ہو گئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم جیشِ محمد نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

حملے کے بعد بھارت نے اس کا الزام پاکستان پر عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کی منصوبہ بندی پاکستان میں کی گئی تھی۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سرزمین کسی کے خلاف استعمال ہونے کے بارے میں ٹھوس شواہد یا معلومات فراہم کی گئیں تو پاکستان کارروائی کرے گا۔

کالعدم تنظیم جیشِ محمد کا نیٹ ورک پاکستان کے صوبے پنجاب کے علاقے بہاولپور میں ہے اور تنظیم کے سربراہ حافظ مسعود اظہر کو بھارت، فرانس اور امریکہ سمیت کئی ممالک اقوام متحدہ کی کالعدم افراد کی فہرست میں شامل کرانا چاہتے ہیں۔

سیکورٹی کمیٹی کے بعد جاری ہونے والے سرکاری اعلامیے میں بھارتی کشیمر میں بھارتی فوج کے مظالم کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت کو خود بھی اس بات کا ادراک ہونا چاہئے کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں کشمیری نوجوانوں میں جان گنوانے کا خوف کیوں ختم ہو رہا ہے۔

پاکستان کے مطابق بھارتی افواج کے کشمیریوں پر مظالم کا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔

اس اجلاس میں پلوامہ واقعہ کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال، مبینہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے مقدمے کی عالمی عدالت انصاف میں سماعت، افغان امن عمل کے حوالے سے پاکستان کی کوششوں اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے حالیہ دورے کا جائزہ لیا گیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG