رسائی کے لنکس

جوہری بم کا حکم دینے میں امریکی صدر کا اختیار


سینیٹر کرس مرفی اور سینیٹر رچرڈ بلومینتھل ۔ فائل فوٹو

امریکی جوہری ذخیرے کے بارے میں بات کرتے ہوئے ا یک سابق اعلیٰ امریکی عہدے دار امریکی اسٹریٹیجک کمانڈ کے سابق کمانڈر ریٹائرڈ جنرل رابرٹ کیلر کہتے ہیں کہ اس نظام کو انسان کنٹرول کرتے ہیں، کوئی بھی کام خودکار طریقے سے نہیں ہو جاتا۔

منگل کے روز کیپیٹل ہل میں سماعت میں پیش ہونے والے پنٹاگان کے اعلیٰ سطح کے سابق عہدے داروں کے مطابق امریکی صدر کو جوہری حملے کا حکم دینے کا قطعی، یک طرفہ اختیار ہے لیکن حفظ ما تقدم کے کسی جوہری حملے کا نہیں۔

اس سلسلے میں سینیٹ میں قانون سازوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے راہنما کے درمیان تندو تیز بیان بازی کے حوالے سے اپنے خيالات کا اظہار کیا۔

اپنے سے پہلے امریکی صدور کی طرح ڈونلڈ ٹرمپ ایک لمحے کے نوٹس پر کسی جوہری حملے کا حکم دے سکتے ہیں ۔یہ چیز کچھ قانون سازوں کو پریشان کر رہی ہے۔

سینیٹ کی خارجہ تعلقات کی کمیٹی کے ڈیمو کریٹک سینیٹر کرس مرفی کہتے ہیں کہ ہمیں یہ فکر ہے کہ امریکہ کے صدر اتنے متلون مزاج اور اتنی جلد اشتعال میں آنے والی شخصیت ہیں کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے کسی ایسے حملے کا حکم دے سکتے ہیں جو امریکی قومی سیکیورٹی کے مفادات کے سخت خلاف ہو سکتا ہے۔

لیکن کچھ دوسرے قانون ساز اس بارے میں ا تنے زیادہ فکر مند نہیں ہیں۔

فلوریڈا کے ری پبلکن سینیٹر مارکو روبیو کہتے ہیں کہ ہمارے ہاں انتخابات ہوتے ہیں اور ووٹرز امریکہ کے صدر کے عہدے کے لیے کسی کو منتخب کرتے ہوئے جن باتوں کو پیش نظر رکھتے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ آیا وہ انہیں یہ اختیار سونپنے کے حوالے سے ان پر اعتما د کرنا چاہتے ہیں یا نہیں چاہتے۔

ٹرمپ شمالی کوریا کے لیڈر کی بار بار تضحیک کر چکے ہیں اور پیانگ یانگ کو واضح انتباہ جاری کر چکے ہیں۔

انہوں نے ایک بار یہ بھی کہا تھا کہ انہیں ایسی آگ اور ایسے غیض و غضب کا سامنا ہو گا جیسا دنیا نے کبھی نہیں دیکھا ہو گا۔

سینٹ کی خارجہ أمور کی کمیٹی کے ڈیمو کریٹک سینیٹر ایڈ مارکی کا کہنا تھا کہ بہت سے امریکی میرے اس خدشے کی تائید کرتے ہیں کہ صدر کے سخت الفاظ جوہری حقیقت میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔

امریکی جوہری ذخیرے کے بارے میں بات کرتے ہوئے ا یک سابق اعلیٰ امریکی عہدے دار امریکی اسٹریٹیجک کمانڈ کے سابق کمانڈر ریٹائرڈ جنرل رابرٹ کیلر کہتے ہیں کہ اس نظام کو انسان کنٹرول کرتے ہیں، کوئی بھی کام خودکار طریقے سے نہیں ہو جاتا۔

یہ سسٹم امریکہ پر کسی جوہری حملے کی صورت میں کسی امریکی صدر کی جانب سے حملے کے حکم پر تیزی سے عمل درآمد کو یقینی بناتا ہے ۔ لیکن اگر صدر شمالی کوریا کے کسی دشمن کے خلاف حفظ ما تقدم کے کسی حملے کا حکم دیا تو اس صورت میں کیا ہو گا ۔امریکہ کے محکمہ دفاع کے سابق انڈر سیکرٹری برائی نمک کیون کہتے ہیں کہ یہ آئینی اعتبار سے جنگ ہے جس کا اختیار کانگریس کو دینا چاہیئے۔

اور ڈیوک یونیورسٹی کے ایک ماہر پیٹر فیور کا کہنا ہے کہ یہ کوئی ایسا معاملہ نہیں ہوگا کہ جس میں صدر ٹیلی فون پر دوسری جانب کسی واحد فوجی افسر کو یہ حکم دے رہے ہوں گے۔ مشیروں اور قانونی مشیروں کی ایک بڑی تعداد اس صورت حال کا جائزہ لے رہی ہو گی۔

ایسی یقین دہانیوں کے باوجود، ڈیمو کریٹس نے ایک بل کا مسودہ تیار کر لیا ہے جس میں یہ تقاضا کیا گیا ہے کہ صدر کو کسی حفظ ماتقدم کے جوہری حملے کا حکم دینے سے قبل کانگریس سے جنگ کا اعلامیہ لازمی طور پر حاصل کرنا ہو گا۔

ری پبلکنز نے امریکہ کی جانب سے جوہری مزاحمت اور خطرے پر اس کے رد عمل کے عزم کے بارے میں عالمی اسٹیج پر کسی قسم کا شک و شبہ پیدا کرنے کے خلاف انتباہ کیا ہے۔

خارجہ تعلقات کی کمیٹی کے ری پبلکن سینیٹر جیمز ریش کا کہنا ہے کہ آج صبح اس سماعت کے دوران ادا ہونے والے ہر ہر لفظ کا پیانگ یانگ میں تجزیہ کیا جائے گا اور وہ اس چیز کا بہت احتياط سے جائزہ لیں گے کہ ہم امریکی لوگ اس معاملے کو کیسے دیکھتے ہیں۔

جنرل ریٹائرڈ رابرٹ کیلر کہتے ہیں کہ تبدیلیاں یا متضاد سگنلز مزاحمت کے لیے سخت نتائج کو جنم دے سکتے ہیں۔

صدارتی جوہری اختیار کے بارے میں کانگریس کا آخری جائزہ 40 سال قبل سابق سویت یونین کے ساتھ سرد جنگ دنوں میں لیا گیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG