رسائی کے لنکس

کرونا وائرس: نوجوان مریضوں کی تعداد میں تین گنا اضافہ


فائل فوٹو

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ سماجی فاصلہ برقرار نہ رکھنے کی وجہ سے گزشتہ پانچ ماہ کے دوران کرونا وائرس سے متاثرہ نوجوانوں کی تعداد میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ کے مطابق فروری کے آخر سے لے کر جولائی کے وسط تک، کرونا وائرس کا شکار ہونے والے 60 لاکھ افراد میں سے 15 فی صد کی عمر 15 سے 24 سال کے درمیان ہے جب کہ اس سے قبل یہ شرح 4.5 فی صد تھی۔

عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہینم نے منگل کو نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ ادارہ پہلے بھی خبردار کر چکا ہے کہ نوجوان اس بیماری کے خلاف ناقابل تسخیر نہیں ہیں۔ نوجوان اس سے متاثر بھی ہو سکتے ہیں اور شدید بیمار ہو کر موت کے منہ میں بھی جا سکتے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو بھی اسی طرح احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں جس طرح کی احتیاط زیادہ عمر کے افراد کرتے ہیں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ نوجوانوں میں ماسک پہننے اور سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کا رجحان کم دیکھا گیا ہے جب کہ نوجوان کام پر جانے کے علاوہ، شاپنگ، بارز اور ساحل پر بھی زیادہ جاتے ہیں۔

جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ ایسے تفریحی مقامات پر زیادہ ٹیسٹ کر رہے ہیں جہاں زیادہ تعداد میں نوجوان جمع ہوتے ہیں۔

بے روزگار امریکی شہری سرکاری امداد کے منتظر
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:15 0:00

امریکہ، فرانس، جرمنی، اسپین اور جاپان وہ ممالک ہیں جہاں عالمی ادارۂ صحت کے مطابق زیادہ بڑی تعداد میں نوجوان اس وبا سے متاثر ہوئے ہیں۔

نئے اعداد و شمار ایک ایسے وقت پر سامنے آئے ہیں، جب جانز ہاپکنز یونیورسٹی کرونا وائرس ریسورس سینٹر کے مطابق، دنیا بھر میں ایک کروڑ 85 لاکھ سے زائد افراد میں اب تک وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے۔

وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد سات لاکھ سے بڑھ چکی ہے۔

کئی ملکوں میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں تیزی آ رہی ہے جس سے ہلاکتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ان ملکوں میں آسٹریلیا بھی شامل ہے جس کے دوسرے بڑے شہر میلبرن میں ایک دن میں 725 نئے مریض سامنے آئے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG