رسائی کے لنکس

logo-print

صدر اوباما آئندہ ہفتے ملائشیا اور فلپائن کا دورہ کریں گے


توقع ہے کہ صدر اوباما کولالمپور میں ’آسیان‘ اجلاس کے بعد، اگلے ہفتے منیلا میں ’ایپک‘ اجلاس میں شریک ہوں گے اور دونوں اجلاسوں سے خطاب میں سائبر سیکورٹی، میری ٹائم سیکورٹی، انسانی حقوق، انسداد دہشت گردی اور موسمیاتی تبدیلی سمیت مختلف مسائل پر اظہار خیال کریں گے

صدر اوباما آئندہ ہفتے فلپائن اور ملائشیا کا دورہ کریں گے، جس دوران وہ ان ممالک کے ساتھ بحرالکاحل کے آرپار شراکت داری کے معاہدے، ’ٹرانس پیسیفک پارٹنرشپ‘ کو مزید مستحکم بنانے کی کوشش کریں گے۔

یہ وسیع تجارتی معاہدہ انتظامیہ کی بحرالکاحل کے خطے میں تجارتی توازن کے قیام کی کلیدی حکمت عملی کا حصہ ہوگا۔

وائٹ ہاوس کے لئے ’وائس اف امریکہ‘ کی نمائندہ میری ایلک سالیناس کے مطابق امریکہ اور بحرالکاحل کے ساحلوں پر واقع دیگر 11 ممالک پر مشتمل تجارتی معاہدہ دنیا کی ’جی ڈی پی‘ کا تقریباً 40 فیصد ہے۔

معاشی سرگرمی کو ذہن میں رکھتے ہوئے، صدر اوباما ایشیا بحرالکاحل اقتصادی تعاون کی تنظیم، اپیک اور جنوب ایشیائی اقوام کی تنظیم، آسیان کے اجلاس کے موقع پر کسی وسیع تجارتی معاہدے پر توجہ مرکوز رکھیں گے۔

جمعرات کو قومی سلامتی کی مشیر سوزان رائس نے وائٹ ہاؤس میں بریفنگ میں بتایا کہ بحرالکاحل کے خطے کے مستقبل میں امریکی مفادات اس تجارتی معاہدے کا مرکزی نکتہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ امریکہ کا مفاد ایشیا بحرالکاحل خطے سے منسلک ہے،جہاں کے سیکورٹی مفادات ہی امریکہ کے معاشی مفادات کے تحفظ کے لئے ضروری ہیں۔

توقع ہے کہ صدر اوباما کولالمپور میں آسیان اجلاس کے اگلے ہفتے منیلا میں ایپک اجلاس میں شریک ہوں گے اور دونوں اجلاسوں سے خطاب میں سائبر سیکورٹی، میری ٹائم سیکورٹی، انسانی حقوق، انسداد دہشت گردی اور موسمیاتی تبدیلی سمیت مختلف مسائل پر اظہار خیال کریں گے۔

سنٹر فار اسٹرٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹیڈیز کی موری ہبرٹ کا کہنا ہے کہ امریکہ کے لئے تجارتی معاہدہ ایپک ممالک کے اقتصادی معاملات میں شامل رہنے کی راہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ رکن ممالک اس تجارتی معاہدے کو لازمی طور پر مضبوط بنائیں۔

واضح رہے کہ امریکی کانگریس میں اس معاہدے کی مخالفت بھی موجود ہے، کچھ لوگ اس معاہدے کو امریکی مفادات اور اس کے کارکنان کے حقوق کے تحفظ کے لئے ناکافی قرار دیتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس حکام کا کہنا ہے کہ ان اجلاسوں میں انتظامیہ خطے میں اعلیٰ معیار اور شفاف قوانین کے ساتھ ایک کھلی معیشت کے قیام پر توجہ دے گی جو امریکی امکانات اور اس کے مزدوروں کے حقوق کو تحفظ فراہم کرے گا۔

سوزان رائس نے کہا ہے کہ آئندہ ہفتے ہونے والے اجلاس میں امریکہ اپنے اتحادیوں سے تعلقات کو مستحکم کرے گا۔ نئے شراکت داروں سے جوڑ بنائے گا اور ایپک جیسے علاقائی اداروں کو مستحکم کرنے کی کوشش کرے گا، تاکہ خطے کو قوانین کے دائرے میں لایا جا سکے۔

XS
SM
MD
LG