رسائی کے لنکس

دوریاں پیدا کرنے والی سیاسی روش پر اوباما، بش کا اظہارِ ناپسندیدگی


بش نے کہا ہے کہ ’’ہم دیکھتے ہیں کہ بیزاری کے عالم میں ہمارے مکالمے کو مسترد کرنے کی روش چل پڑی ہے۔ دلیل بہت تیزی سے دشمنی کا روپ دھار لیتا ہے۔ نااتفاقی بدکلامی میں بدل جاتی ہے‘‘

نیویارک میں جمعرات کو اپنے خطاب میں، جیورج ڈبلیو بش نے کہا ہے کہ ’’ہماری عام زندگی میں دھونس اور تعصب قومی رویے کی صورت اختیار کر لیتا ہے، جو بے رحمی اور منافقت کی راہ ہموار کرتا ہے اور ہمارے بچوں کی اخلاقی پرورش پر اثرانداز ہوتا ہے۔ شہری اقدار کی پاسداری کا ایک ہی اصول ہوا کرتا ہے، وہ یہ کہ مثال پیش کی جائے‘‘۔ اُنھوں نے یہ بات آزادی، ’فری مارکیٹ‘ اور سکیورٹی کے موضوع پر بش انسٹی ٹیوٹ کے قومی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

بش نے معاشرے کو منقسم کرنے کی سیاسی روش پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’کبھی یوں لگتا ہے کہ ہمیں منقسم کرنے والی طاقتیں ہمیں یکجا کرنے والی قوت سے زیادہ مضبوط ہیں‘‘۔

بش نے کہا کہ ’’ہم دیکھتے ہیں کہ بیزاری کے عالم میں ہمارے مکالمے کو مسترد کرنے کی روش چل پڑی ہے۔ دلیل بہت تیزی سے دشمنی کا روپ دھار لیتا ہے۔ نااتفاقی بدکلامی میں بدل جاتی ہے‘‘۔

ایسے میں، اُنھوں نے کہا کہ ’’منافقت زور پکڑنے لگی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہماری سیاست سازشی گمان کو وزنی بناتی ہے، جو شکوک کی نذر ہوکر سریح من گھڑپ کہانی بن جاتی ہے‘‘۔

رچمنڈ میں براک اوباما نے بھی کچھ انہی خیالات کا اظہار کیا۔ موقع تھا ورجینیا کے گورنر کے امیدوار، لیفٹیننٹ گورنر، رالف نورتھام کی انتخابی ریلی کا۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’برعکس اس بات کے کہ ہماری سیاست ہمارے اقدار کا مظہربنے، ہم کمیونیٹیز پر اپنی سیاست تھوپ رہے ہیں۔ بجائے اس کے کہ ہم مل کر کام کریں اور عملی حل نکالیں، ہمارے اندر ایسے افراد ہیں جو دانستہ طور پر لوگوں میں کھچاؤ اور دوری پیدا کرتے ہیں۔ اُن لوگوں کا مذاق اڑایا جانے لگا ہے جو اختلاف رائے رکھتے ہیں‘‘۔

کسی کا نام نہیں لیا

ماضی کے سربراہان میں سے کسی نے بھی امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا نام نہیں لیا، لیکن اُن کے پیغامات کا بظاہر یہی مطلب نکلتا تھا۔

نیو یارک میں بش نے کہا کہ ’’بطور ایک ملک ہماری ایک شناخت ہے، جو جغرافیہ یا نسل، زمین یا خون کے رنگ کی وجہ سے متعین نہیں ہوتی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر نسل، مذہب، قومیت سے تعلق رکھنے والے مکمل اور مساوی طور پر امریکی ہیں۔ اس کا یہ مطلب ہوا کہ ہٹ دھرمی اور سفید فام فرتری، کسی بھی شکل میں، امریکی پہچان سے گستاخی کے مترادف ہے‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ اکثر ہم دوسروں کو بدترین مثالوں کی بنیاد پر پرکھتے ہیں، جب کہ اپنے آپ کو پارسائی والے جذبات سے دیکھتے ہیں، حالانکہ ہمیں چاہیئے کہ ہر دوسرے شخص کو خدا کے پرتو کے طور پر دیکھیں۔۔‘‘

اوباما نے ورجینیا ریلی کو بتایا کہ ’’اگر لوگوں کو تقسیم کرکے آپ انتخابی مہم جیت لیتے ہیں، تو آپ اس طرح حکمرانی نہیں کرسکتے۔ بعد میں آپ اُن کو اکٹھا نہیں رکھ پائیں گے۔ ہم اُس وقت ہی اچھے ہیں جب ہم ایک دوسرے کو نیچا نہیں دکھاتے، بلکہ سب کو ایک ساتھ لے کر چلتے ہیں‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG