رسائی کے لنکس

logo-print

کہا نہیں جا سکتا آیا جنگ بندی سے شام میں امن آئے گا: اوباما


اُنھوں نے کہا کہ شام پر کنٹرول کے حصول کی لڑائی میں ملوث فریق شاید بالآخر اس قابل ہوں کہ وہ ’’سیاسی عبوری دور کی جانب پیش رفت کریں جس سے آخر کار شام کی خانہ جنگی کو ختم کرنے میں مدد مل سکے‘‘

صدر براک اوباما نے بدھ کے روز محتاط انداز اپنانے پر زور دیا آیا شام میں مجوزہ جنگ بندی کے نتیجے میں ملک کی پانچ سالہ خانہ جنگی کا خاتمہ لانے کے سلسلے میں امن مذاکرات کی راہ ہموار ہوگی۔

صدر اوباما نے کہا کہ ’’اِس بارے میں، ہم توقعات بڑھانے میں بہت ہی محتاط ہیں۔ زمینی صورت حال مشکل ہے‘‘۔ اُنھوں نے یہ بات وائٹ ہاؤس میں اردن کے شاہ عبداللہ دوم سے ملاقات کے بعد کہی ہے۔

تاہم، امریکی سربراہ نے مزید کہا کہ ’’اگر ہم آئندہ چند ہفتوں کے دوران ملک میں جاری تشدد کی کارروائی میں کچھ کمی آتی ہے، تو اِس سے ہمیں یہ بنیاد فراہم ہوگی کہ طویل مدت کے لیے جنگ بندی عمل میں لائی جا سکتی ہے‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ شام پر کنٹرول کے حصول کی لڑائی میں ملوث فریق شاید بالآخر اس قابل ہوں کہ وہ ’’سیاسی عبوری دور کی جانب پیش رفت کریں جس سے آخر کار شام کی خانہ جنگی کو ختم کرنے میں مدد مل سکے‘‘۔

اوباما نے اس ہفتے کے اوائل میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ ایک سمجھوتا طے کیا جس کے رو سے ہفتے کے دِن سے لڑائی ختم ہوگی، حالانکہ اس میں داعش کے اہداف اور شام کے القاعدہ کے دھڑے، النصرہ محاذ کے لڑاکوں پر حملے جاری رکھنے کی اجازت ہوگی۔

شام کے صدر بشار الأسد نے بدھ کے روز کہا کہ وہ جنگ بندی کی حمایت کرنے پر تیار ہیں۔

XS
SM
MD
LG