رسائی کے لنکس

logo-print

'سمجھوتا کرہ ارض کو محفوظ بنانے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے'


آٹھ منٹ کے بیان میں صدر اوباما نے کہا کہ سمجھوتے کی منظوری دے کر، 195 ملکوں نے اِس بات کا اظہار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے چیلنج کا مل کر مقابلہ کرنے کے سلسلے میں اُن میں عزم اور صلاحیت کی کوئی کمی نہیں، اور وہ کاربن کے اخراج میں کمی لائیں گے

صدر براک اوباما نے پیرس میں منظور کیے گئے موسمیاتی تبدیلی کے سمجھوتے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دنیا کے لیے 'ایک تاریخ ساز لمحے کی حیثیت رکھتا ہے'۔

ہفتے کے روز اُنھوں نے کہا کہ 'یہ سمجھوتا کرہ ارض کو بچانے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے'۔

آٹھ منٹ کے بیان میں، اوباما نے کہا کہ 'سمجھوتے کی منظوری دے کر، 195 ملکوں نے اِس بات کا اظہار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے چیلنج کا مل کر مقابلہ کرنے کے سلسلے میں اُن میں عزم اور صلاحیت کی کوئی کمی نہیں، اور وہ کاربن کے اخراج میں کمی لائیں گے۔ اور ایسے مستقبل کو فروغ دیں گے جس میں شفاف ایندھن استعمال کرنے کو ترجیح دی جائے گی'۔

صدر نے یہ بیان وائٹ ہائوس کے کیبینٹ روم سے دیا۔ بقول اُن کے، 'دنیا کو جس ٹھوس سمجھوتے کی ضرورت تھی، ہم نے مل کر وہ کر دکھایا ہے'۔

سمجھوتے کے تحت عالمی حدت کی سطح میں دو ڈگری سیلشئس کمی لانے کے ہدف کو حاصل کیا جائے گا؛ اور اس میں شریک ملکوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ درجہ حرارت کو 1.5 ڈگری سیلشئس کے صنعتی دور سے قبل کی سطح پر لانے کی کوششیں کی جائیں گی۔

معاہدے کی رو سے، تمام ممالک ہر پانچ برس بعد موسمیات سے متعلق اپنے اپنے اہداف کا اعلان کریں گے، جو میعاد 2020ء سے شروع ہوگی۔

سمجھوتے میں طے کیا گیا ہے کہ شفافیت کے نظام پر عمل درآمد ہوگا جس کے تحت ہر ملک نہ صرف کاربن اخراج کے بارے میں انکشاف کرے گا، بلکہ ایسے اخراج کی وجوہات بتائے گا اور یہ کہ گرین ہائوس گیسز کے خاتمے کے لیے تمام ملک کیا کچھ کر رہے ہیں۔

اوباما نے کہا کہ ایسے میں جب ٹیکنالوجی ترقی کر رہی ہے، موسمیات کے سمجھوتے کے ذریعے طے کی گئی اہداف کے حصول کی راہ ہموار ہوگی، جب کہ دینا کے متاثرہ ملکوں کی مدد کو یقینی بنایا جائے گا، ایسے میں جب اُن کی جانب سے بھی صاف معاشی افزائش کے لیے کوششیں کی جائیں گی۔

صدر اوباما کے بقول، 'مختصر یہ کہ اس سمجھوتے سے کاربن کی آلودگی میں کمی آئے گی جس کے باعث ہمارے سیارے کو خطرات لاحق ہیں اور کاربن کو کم کرنے کے لیے سرمایہ کاری پر مبنی ملازمتوں اور معاشی افزائش کو فروغ دیا جائے گا'۔

XS
SM
MD
LG