رسائی کے لنکس

logo-print

واشنگٹن میں ہلچل - اوبامہ کی دوسری تقریب حلف برداری


واشنگٹن میں موجود تحائف کی دکانوں پر صدر اوبامہ اور بائیڈن کے پوسٹرز ، ٹی شرٹس اور مختلف مصنوعات کی بھرمار ہے۔ لیکن خریدار شاید کم ہیں۔ اس کے لیے ان دکانوں نے نت نئے طریقے نکالے ہیں۔

خیال کیا جا رہا ہے اوبامہ کی حلف برداری کی یہ تقریب امریکی تاریخ میں کسی صدر کی دوسری سب سے بڑی تقریب حلف برداری ہوگی۔ دلچسب بات یہ ہے سب بڑی تقریب صدر اوبامہ ہی کی پہلی تقریب حلف برداری تھی جس میں 18 لاکھ سے زائد لوگوں نے شرکت کی تھی۔

آج سے چار سال پہلے امریکہ کے پہلے سیاہ فام صدر کی تقریب ِ حلف برداری نے امریکی دارالحکومت میں خوب ہلچل پیدا کی تھی ۔ 18 سے 20 لاکھ لوگوں نے اس وقت صدر اوبامہ کی تقریب حلف برداری کو امریکی کیپیٹل بلڈنگ کے سامنے اکٹھے ہو کر دیکھا تھا۔ واشنگٹن کی گہما گہمی بھی دیکھنے لائق تھی۔شہر میں موجود یادگاری تحائف یا سووینئیرز کی دکانوں نے سال 2008 میں ریکارڈ بزنس کیا تھا۔ لیکن صدر اوبامہ کی دوسری تقریب حلف برداری میں ویسی گہما گہمی تو نظر نہیں آرہی لیکن لوگوں میں جوش و خروش ضرور موجود ہے۔

واشنگٹن میں موجود تحائف کی دکانوں پر صدر اوبامہ اور بائیڈن کے پوسٹرز ، ٹی شرٹس اور مختلف مصنوعات کی بھرمار ہے۔ لیکن خریدار شاید کم ہیں۔ اس کے لیے ان دکانوں نے نت نئے طریقے نکالے ہیں۔ ایک دکان میں اوول آفس کا سیٹ رکھا گیا ہے جو ہوبہو اصلی اوول آفس کی طرح دکھتا ہے اس دکان کا نام ہے وہائٹ ہاوس گفٹس۔ یہاں سےاگر آپ کچھ خریدیں تو آپکو اس اوول آفس میں تصاویر مفت میں بنانے کی اجازت ہے۔

اس دکان میں کام کرنے والے جرمین ڈیوس کا کہنا ہے ہماری دکان میں آپ تقریب حلف برداری کا خصوصی دعوت نامہ بھی حاصل کرسکتےہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ دعوت نامہ اصلی نہیں لیکن آپ اپنی قسمت ضرور آزما سکتے ہیں۔
خیال کیا جا رہا ہے کہ صدر اوبامہ کی حلف برداری کی یہ تقریب، صدر اوبامہ ہی کی پہلی حلف برداری کی تقریب کے بعد، امریکی تاریخ میں دوسری بڑی تقریب حلف برداری ہوگی۔ واشنگٹن میں لوگ اس کی بھرپور تیاری میں نظر آرہے ہیں۔ کیرن سمیلٹزر نے یہ حلف برداری دیکھنے کے لیے ہوٹل اور کھانے پینے کی مد میں 3500 ڈالر خرچ کر ڈالے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر اوبامہ کی دوسری مدت صدارت زیادہ اہم ہے۔

اس سووینئیر شاپ کے مینیجر اینڈے گیلیگر ہیں ، جن کاکہنا ہے کہ یہ امریکی دارلحکومت کی سب سے بڑی گفٹ شاپ ہے ۔ جہاں آپ کو خصوصی سکوں ، شیلڈز ، ٹوپیوں ، مگس، کینڈیز ، کی چینز اور ٹی شرٹس کی ورائٹی نظر آئے گی۔ گیلیگر کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کی حلف برداری کی تقریب کی تیاریاں الیکشن کی رات ہی شروع ہو جاتی ہیں،6 نومبر کی رات کو 11:05 منٹ پر انھوں نے اپنے وینڈر کو کال کی اور کہا کہ اوبامہ اور بائیڈن کی مصنوعات کی پرنٹنگ شروع کر دو۔

اس کے علاوہ مختلف دکانوں نے اپنے سامان کو شہر میں موجود سٹالز پر بھی فروخت کرنے کے لیے مخصوص گاڑیاں کرائے پر حاصل کی ہیں۔ جنھیں برتھا کہا جاتا ہے۔ جو پورے واشنگٹن میں گھوم پھر کر کمپنی کے دوسرے سٹورز کو مصنوعات فراہم کرتی ہے اور اپنی ساخت اور پتلی جسامت کے باعث واشنگٹن کی ٹریفک میں بھی نہیں پھنستی۔

البتہ واشنگٹن کی سڑکوں پر کارٹس پر اس دفعہ گہما گہمی کم ہے، کیونکہ صرف ایک چوتھائی کارٹس نے انایگوریشن کے پرمٹ کے لیے اپلائی کیا ہے ۔ کارٹس کے مالکان کا کہنا ہے اس بار لوگ شاید کم آئیں کیونکہ موسم بھی سرد ہے اور خاص طور پر حلف برداری کے دن کی پیشن گوئی شددی سرد موسم کی ہے۔ لیکن ڈومنگو کانیاٹے جیسےآرٹسٹس اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ڈومنگو نے ایک شرٹ ڈیزائن کی ہے اسے مختلف سٹورز پر بیچ رہے ہیں۔ دومنگو کا کہنا ہے کہ امریکہ مواقعوں کی سر زمین ہے اور اپنے لیے مواقع پیدا کرنے کی ۔ اور ان کے لیے یہ انایگوریشن اس شرٹ کو بنا کر اس سے پیسہ بنانے کا موقع ہے۔

بزنس چاہے جیسا بھی ہو واشنگٹن میں صدر اوبامہ کی دوسری مدت صدارت کو لے کر جوش و خروش ضرور موجود ہے ۔ اس ضمن میں جنوبی ایشیائی اور پاکستانی کمیونٹی بھی کچھ کم نہیں، بہت سے لوگ صدر اوبامہ کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے خواہاں ہیں ۔ ایک بھارتی ارگانائزیشن نے صدر اوبامہ کی حلف برداری کی خوشی میں ایک بڑے ایونٹ کا اہتمام کیا ہے جسے واشنگٹن میں ان ایگورل بال کہا جاتا ہے ۔ جبکہ پاکستانی کمیونٹی کے کئی اراکین اوبامہ کی حلف برداری کے لیے واشنگٹن کی سڑکوں پر ٹریفک اور دوست معاملات کو سنبھالنے میں رضاکارنہ خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔

عائشہ شیخ امریکہ کے ادارے ہوم لینڈ سیکورٹي میں کام کرتی ہیں۔ اس دن اگرچے امریکہ میں عام تعطیل ہے لیکن بہت سے سرکاری ملازمین روایتی طو ر پر اپنے آپ کو کسی بھی کام کے لیے رضاکارانہ طور پر پیش کرتے ہیں۔ عائشہ بھی اس دن شدید ٹھنڈے موسم میں صبح سویرے واشنگٹن کی سڑکوں پر لوگوں کو ان کی منزل مقصود پر پہنچانے کا کام سرانجام دیں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ کی یہ خوبی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو اتنا خوش رکھتا ہے کہ ان کا دل خود ہی یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنے صدر کے لیے کچھ کریں۔
XS
SM
MD
LG