رسائی کے لنکس

logo-print

ایران کے خلاف فوجی قوت کے استعمال میں سنجیدہ ہیں: اوباما


صدر اوباما کا حالیہ بیان ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی برادری کی بڑھتی ہوئی تشویش اور اسرائیل کی جانب سے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے کے خدشات کے تناظر میں سامنے آیا ہے

امریکہ کے صدر براک اوباما نے خبردار کیا ہے کہ وہ تہران کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کی کوشش ترک نہ کرنے پر اس کے خلاف فوجی قوت کے استعمال پہ سنجیدہ ہیں۔

امریکی جریدے 'دی اٹلانٹک' میں جمعہ کو شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں صدر اوباما نے کہا ہے کہ ایران کے معاملے پر "فوجی طاقت کے استعمال سمیت تمام آپشن میز پر موجود ہیں"۔

صدر اوباما کا حالیہ بیان ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی برادری کی بڑھتی ہوئی تشویش اور اسرائیل کی جانب سے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے کے خدشات کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔

ایران پر اسرائیلی حملے کی قیاس آرائیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے صدر اوباما کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی حکومت جانتی ہے کہ بطور صدرِ امریکہ وہ اپنے کہے پر قائم رہتے ہیں، اور بقول ان کے "ڈینگیں نہیں مارتے"۔

ایران اور اسرائیل کے درمیان ممکنہ جنگ اور اس کے دنیا پر اثرات سے متعلق خدشات صدر اوباما کے لیے باعثِ تشویش ہیں اور امکان ہے کہ یہ معاملہ اسرائیل کے وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو اور امریکی صدر کے درمیان پیر کو وہائٹ ہائوس میں ہونے والی ملاقات میں بھی زیرِ غور آئے گا۔

ایران کا اصرار ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ ایران اپنے جوہری پروگرام پر عالمی برادری کے خدشات دور کرنے کے لیے عالمی قوتوں کو کئی بار مذاکرات کی پیش کش بھی کرچکا ہے لیکن ایرانی حکومت ان مذاکرات کے آغاز کے لیے بعض شرائط عائد کرتی ہے۔

اپنے انٹرویو میں صدر اوباما کا کہنا تھا کہ ایران کا جوہری طاقت بن جانا خطے کے کئی ممالک کے لیے ناقابلِ برداشت ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ایران دہشت گرد تنظیموں کے معاون کی حیثیت سے معروف ہے اور اس کے جوہری طاقت بن جانے کی صورت میں جوہری ٹیکنالوجی کے پھیلائو کا خدشہ کہیں زیادہ سنگین ہوجائے گا۔

صدر اوباما اسرائیلی وزیرِ اعظم سے ملاقات سے قبل اتوار کو اسرائیل نواز بااثر امریکی تنظیم 'امریکن اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی' کے اجلاس سے بھی خطاب کریں گے جس میں ایران کا جوہری تنازع سرِ فہرست رہنے کا امکان ہے۔

XS
SM
MD
LG