رسائی کے لنکس

logo-print

میں نے انتخابات میں روسی مداخلت کی سطح کا اندازہ کم لگایا تھا: اوباما


امریکی انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے صدارتی انتخابات میں روس کی مداخلت کے بارے میں رپورٹ منظرِ عام پر آنے کے بعد، امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ اُنھوں نے ایک جمہوری نظام میں جھوٹی اطلاعات کی مہم اور کمپیوٹر ہیکنگ کے اثرات کا ''اندازہ کم لگایا تھا''۔

اوباما نے، جو 12 روز بعد اپنے عہدے سے سبک دوش ہوجائیں گے، 'اے بی سی نیوز' کے پروگرام 'دِس ویک' کو بتایا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ اُنھوں نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو پرکھنے میں کوئی غلطی کی تھی؛ جِن کے بارے میں امریکی انٹیلی جنس اداروں نے کہا ہے کہ اُنھوں نے ہی امریکی جمہوری انتخابات کے نظام کو متاثر کرنے اور منتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی مخالف، ڈیموکریٹک پارٹی کی ہیلری کلنٹن کو نقصان پہنچانے کے احکامات دیے تھے۔

تاہم، اوباما نے کہا کہ ''میرے خیال میں، میں نے نقصان کی سطح کا درست اندازہ نہیں لگایا تھا کہ اطلاعات کے اس نئے دور میں، سائبر ہیکنگ اور ممکنہ غلط اطلاعات ہمارے آزاد معاشروں، کھلے نظام والے ملکوں پر اتنا اثر ڈالیں گی؛ جو مختلف طریقوں سے ہماری جمہوری روایات میں سرایت کریں گی، جو معاملہ، میرے خیال میں، بڑھتا جا رہا ہے''۔

صدر نے کہا کہ اُنھوں نے روسی ہیکنگ کے بارے میں امریکی انٹیلی جنس رپورٹ کا خلاصہ جاری کیا ہے، ''تاکہ ہم یہ جان سکیں کہ یہ ایسا عمل ہے جسے پیوٹن کچھ عرصے سے یورپ میں آزما رہے ہیں، جس کی ابتدا روس نے اپنی سابقہ زیر اثر ریاستوں میں کی، جہاں روسی زبان بولنے والوں کی زیادہ تعداد آباد ہے۔ تاہم، اب یہ حربہ مغربی جمہوریتوں تک پھیلا دیا گیا ہے۔''

امریکی انٹیلی جنس ادارے اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ کلنٹن کی انتخابی مہم کے سربراہ جان پڈیسٹا کی ہزاروں اِی میل ہیک ہوئیں اور 'وکی لیکس' کے شفافیت کے داعی کے ذریعے جاری کرائی گئیں، جس کے اگلے ماہ 8 نومبر کے انتخابات ہونے والے تھے۔ اِن میں سے بہت ساری اِی میلز میں پریشان کُن انکشافات کیے گئے کہ کس طرح مبینہ طور پر کلنٹن کے کارندوں نے پارٹی کے مدِ مقابل صدارتی امیدوار، ورمونٹ کے سینیٹر برنی سینڈرز کو شکست دینے میں مدد فراہم کی۔

رپورٹ میں اِس بات کا جائزہ نہیں لیا گیا آیا افشا ہونے والی اطلاعات انتخابات کے نتیجے پر کس طرح اثرانداز ہوئیں، جس نکتے کی جانب ٹرمپ نے اپنےکئی ایک ٹوئٹر پیغامات میں توجہ دلائی ہے، جب سے جمعے کو اُنھیں انٹیلی جنس کی بریفنگ دی گئی ہے۔

ٹرمپ کے بقول،'' انٹیلی جنس نے بہت ہی سخت الفاظ میں کہا ہے کہ انتخابی نتائج پر ہیکنگ کے اثر کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ ووٹنگ کی مشینوں کو ہاتھ نہیں لگایا گیا''۔

اُنھوں نے کہا کہ ''ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی کی جانب سے سریح غفلت اپنائے جانےکے باعث ہیکنگ ہوئی۔ ری پبلیکن نیشنل کمیٹی نے دفاع کا مضبوط نظام بنا رکھا تھا۔ 'ڈی این سی' نظام کا غفلت پر مبنی دفاع اور ہیکنگ کا ذکر اس لیے کیا جا رہا ہے، چونکہ ڈیموکریٹس انتخاب ہار گئے، جو اُن کے لیے بڑی پریشانی کا باعث ہے''۔

اوباما نے روس کے ساتھ انتہائی قریبی تعلقات کے بارے میں متنبہ کیا۔

اُنھوں نے کہا کہ ''جو بات میرے لیے تشویش کی باعث ہے وہ یہ کہ کچھ دِنوں سے بہت سوں کی رائے سامنے آچکی ہے، جب کہ ری پبلیکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے یا ماہر یا تجزیہ کار، جو دیگر امریکیوں کے بر عکس، جن میں ڈیموکریٹس شامل ہیں، وہ ولادیمیر پیوٹن پر زیادہ اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔ ایسا نہیں ہونا چاہیئے''۔

صدر اوباما نے مزید کہا کہ ''ہمیں ایک دوسرے کو یاد دلانا چاہیئے کہ ہم دراصل ایک ہی ٹیم ہیں۔ ولادیمیر پیوٹن ہماری اس ٹیم میں شامل نہیں ہیں۔ اگر ہم اُس نکتے پر پہنچتے ہیں جہاں اس ملک کی عوام ایک ایسے لیڈر سے قربت کا سوچتی ہے جو ہمارے مخالف ہیں، جو یہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ اور ہمارا طرزِ عمل اُن کے لیے خطرے کا باعث ہے، تو پھر ہمارے لیے بڑے مسائل پیدا ہوں گے، جو سائبر ہیکنگ سے بھی کہیں زیادہ سنگین ہوں گے''۔

XS
SM
MD
LG