رسائی کے لنکس

logo-print

اوباما، شاہ سلمان کا ’سب کی شمولیت کا انداز‘ اپنانے پر اتفاق


ملاقات کے بعد ایک بیان میں وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ دونوں سربراہان نے ’’خطے (مشرق وسطیٰ) میں ایران کی اشتعال انگیز سرگرمیوں کی بنا پر پیدا ہونے والے چیلنجوں‘‘ پر گفتگو کی۔ ایران اور دہشت گردی کے خلاف لڑائی کے حوالے سے اختلافی انداز کے باعث، امریکہ اور سعودی عرب میں تناؤ میں اضافہ دیکھا گیا ہے

امریکی صدر براک اوباما اور سعودی عرب کے شاہ سلمان نے بدھ کے روز ریاض میں دو گھنٹے کی ملاقات کے دوران ’’علاقائی تنازعات کی شدت میں کمی لانے میں سب کی شراکت والا انداز‘‘ اپنانے کی اہمیت سے اتفاق کیا ہے۔

شاہی محل میں ہونے والی ملاقات کے بعد ایک بیان میں وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ دونوں سربراہان نے ’’خطے (مشرق وسطیٰ) میں ایران کی اشتعال انگیز سرگرمیوں کی بنا پر پیدا ہونے والے چیلنجوں‘‘ پر گفتگو کی۔

ایران اور دہشت گردی کے خلاف لڑائی کے حوالے سے اختلافی انداز کے باعث، امریکہ اور سعودی عرب میں تناؤ بڑھا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اوباما نے یمن میں مخاصمت بند کرنے کی حالیہ کوششوں ’’اور سارے یمن میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد پہنچانے کے شاہ کے عزم‘‘ کا خیر مقدم کیا۔

مزید یہ کہ ’’صدر نے داعش کے خلاف مہم میں تیزی لانے کی اہمیت کو اجاگر کیا اور اتحاد میں سعودی عرب کے کردار کی اہمیت کا خیر مقدم کیا‘‘۔

بعدازاں، صدر نے ابو ظہبی کے ولی عہد، شیخ محمد بن زید النہیان سے ملاقات کی، جو متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کے ڈپٹی سپریم کمانڈر ہیں۔

جمعرات کو خلیج تعاون کونسل کے سربراہ اجلاس کے دوران، امریکہ اور اُس کے عرب اتحادی درپیش مشکل معاملات پر گفتگو کریں گے جن کا خطے کو سامنا ہے، جن میں ’جی سی سی‘ اتحاد کے چھ خلیجی ممالک شریک ہوں گے، جِن میں سعودی عرب، کویت، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین اور اومان شامل ہیں۔

تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا سبب بنیادی طور پر علاقائی چیلنجوں سے نمٹنے کی مختلف حکمت عملیوں اور اولیت کے معاملے پر ہے۔

امریکی صدر براک اوباما نے بدھ کو ریاض میں سعودی عرب کے بادشاہ سلمان سے ملاقات کی، ایسے میں جب دہشت گردی کے انسداد اور خطے کے تنازعات سے نبردآزما ہونے کے معاملے پر تعلقات میں کشیدگی اور اختلافات جاری ہیں۔

گرمجوشی سے خیرمقدمی کلمات کے بعد، دونوں سربرہان نے بدھ کو صدارتی محل کے بند کمرے میں دو گھنٹے تک ملاقات کی۔

سلمان نے اوباما سے کہا کہ وہ اور سعودی عوام اُن کے دورے پر تہ دل سے شکر گزار ہیں، جو صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اُن کا چوتھا دورہ ہے۔

اوباما نے کہا کہ ’’امریکی عوام نے اپنا تہنیتی پیغام بھیجا ہے‘‘۔ اُنھوں نے جمعرات کو خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے سربراہ اجلاس منعقد کرنے پر بادشاہ کا شکریہ بھی ادا کیا۔

سربراہ اجلاس کے موقعے پر امریکہ اور اُس کے عرب ساجھے دار خطے کو درپیش معاملات پر خطاب کریں گے، جس میں ’جی سی سی‘ اتحاد کے چھ خلیجی ملک شریک ہوں گے، جن میں سعودی عرب، کویت، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین اور اومان شامل ہیں۔

بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ دہشت گردی سے نمٹنے اور خطے میں استحکام لانے کے لیے، امریکہ اور سعودی عرب کی بنیادی طور پر مختلف ترجیحات اورحکمت عملی کے نتیجے میں دونوں کو کلیدی چیلنج درپیش ہیں۔

امریکہ اور اس طرح یورپ داعش اور القاعدہ کو علاقے اور دنیا بھر کے لیے بڑا خطرہ سمجھتا ہے۔ تاہم، خلیج کے متعدد ملکوٕں کے لیے سب سے بڑا خطرہ ایران اور اُن گروپوں سے ہے جن کی ایران حمایت کرتا ہے، مثلاً شام کے صدر بشار الاسد اور یمن میں شیعہ حوثی باغی۔

سنی اکثریت والے سعودی عرب نے حوثیوں کے خلاف گراں فوجی مداخلت کی قیادت کی ہے۔
وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ اوباما اور ’جی سی سی‘ کے رہنما تعاون بڑھانے کے طریقہٴ کار پر غور کریں گے، اور باہمی مفاد کی پالیسیوں اور انداز کو اپنائیں گے، جیسا کہ دہشت گردی کا انسداد اور یمن اور شام جیسے مقامات پر امن اور استحکام کا فروغ۔

XS
SM
MD
LG