رسائی کے لنکس

logo-print

صدر اوباما 'جی-8' سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے


صدر اوباما 'جی-8' سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے

صدر اوباما جمعرات کے روز اپنے دورہ یورپ کے تیسرے مرحلے میں فرانس پہنچ رہے ہیں جہاں وہ دنیا کی آٹھ بڑی معیشتوں کے نمائندہ گروپ 'جی-8' کے سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔

’جی- ایٹ‘ کا سربراہی اجلاس فرانسیسی صدر نکولس سرکوزی کی صدارت میں فرانس کے معروف سیاحتی قصبے ڈوویلے میں جمعرات سے شروع ہورہا ہے۔ امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ عرب دنیا میں جاری سیاسی بے چینی، جاپان کا جوہری بحران اور عالمی معیشت میں اصلاحات کے عمل جیسے موضوعات اجلاس میں ہونے والی گفتگو میں سرِ فہرست رہیں گے۔

مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقی ممالک میں جاری سیاسی تحریک اور وہاں سیاسی اور معاشی اصلاحات کے نفاذ کی حمایت سے متعلق گزشتہ ہفتے واشنگٹن میں کیے گئے اپنے اہم خطاب کے بعد صدر اوباما پہلی بار کسی عالمی تنظیم کے اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔

امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ 'جی-8' اجلاس سے اپنے خطاب میں صدر اوباما عرب دنیا کے حوالے سے امریکی پالیسی کی وضاحت بھی کریں گے۔

امریکی صدر برطانیہ سے فرانس پہنچ رہے ہیں۔ برطانیہ میں اپنے تین روزہ قیام کے دوران انہوں نے کئی عالمی امور پر برطانوی وزیرِاعظم ڈیوڈ کیمرون سے مذاکرات کیے۔

دونوں رہنماؤں نے لیبیا کے حکمران معمر قذافی کی جانب سے شہریوں کو نشانہ بنانے کا عمل ترک کیے جانے تک نیٹو کا فضائی آپریشن جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

برطانوی وزیرِاعظم سے گزشتہ روز لندن میں ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر اوباما کا کہنا تھا کہ اتحادی ممالک کی جانب سے معمر قذافی پر ڈالے جانے والے دباؤ میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔

بعد ازاں برطانوی پارلیمان سے اپنے خطاب میں امریکی صدر نے کہا تھا کہ امریکہ، برطانیہ اور ان کے اتحادی ممالک نے "لیبیا میں ایک بڑی تباہی کو روکا ہے"۔ ان کا کہنا تھا کہ لیبیا سے "شخصی آمریت کے سائے" کے خاتمے تک اتحادی ممالک پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

اپنے خطاب میں صدر اوباما نے عالمی برادری میں امریکہ اور برطانیہ کے قائدانہ کردارکا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک رواں صدی کو پرامن اور ترقی کی صدی بنانے کے مقصد کے لیے سرگرم رہیں گے۔ انہوں نے اس تاثر کی نفی کی کہ چین، بھارت اور برازیل جیسی ابھرتی ہوئی معاشی قوتوں کے باعث دنیا میں امریکی اور یورپی اثرورسوخ زوال پذیر ہے۔

اپنے خطاب میں عرب دنیا کی سیاسی تبدیلیوں کے بارے میں صدر اوباما کا کہنا تھا کہ امریکہ اور برطانیہ اپنی آزادی کی جدوجہد کرنے والے لوگوں کے ساتھ ہیں۔

امریکی صدر اپنے چار ملکی دورہ یورپ کے آخری مرحلے میں فرانس کے بعد پولینڈ پہنچیں گے جہاں وہ وسطی یورپی رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے۔

XS
SM
MD
LG