رسائی کے لنکس

صد ربراک اوباما اپنے چار ملکی دورہ یورپ کے دوسرے مرحلے میں لندن پہنچ گئے ہیں جہاں وہ منگل کے روز ملکہ الزبتھ اور برطانوی وزیرِاعظم ڈیوڈ کیمرون سے ملاقاتیں کریں گے۔

امریکی صدر اور خاتونِ اول مشیل اوباما ملکہ برطانیہ کی خصوصی مہمانوں کی حیثیت سے منگل کے روز شاہی محل ’بکنگھم پیلس‘ میں منعقدہ باضابطہ استقبالی تقریب میں شرکت کے بعد ملکہ کے ساتھ ظہرانہ میں شرکت کریں گے۔ ملکہ برطانیہ کی جانب سے امریکی صدر کے اعزاز میں منگل کی شب ایک عشائیہ کا اہتمام بھی کیا گیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر اوباما اپنے دورہ برطانیہ میں ویسٹ منسٹر ایبی بھی جائیں گے جہاں وہ ایک تقریب میں شریک ہونگے۔ امریکی صدر حزبِ اختلاف کی جماعت لیبر پارٹی کے رہنما ڈیوڈ ملی بینڈ سے بھی ملاقات کریں گے۔

امریکی صدر اور برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون کے درمیان ملاقات میں سلامتی کی صورتِ حال، معاشی مسائل اور دلچسپی کے دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

دونوں رہنما دنیا کی آٹھ بڑی معیشتوں کے نمائندہ گروپ ’جی ایٹ‘ کے رواں ہفتے فرانس میں ہونے والے سربراہ اجلاس میں بھی شرکت کریں گے۔

منگل کے روز برطانوی اخبار ’ٹائمز آف لندن‘ میں شائع ہونے والے ایک مشترکہ کالم میں دونوں رہنماؤں نے کہا کہ برطانیہ اور امریکہ کے تعلقات نا صرف خاص بلکہ لازمی بھی ہیں۔

صدر اوباما اپنا دورہ آئرلینڈ مختصر کرکے طے شدہ پروگرام سے قبل ہی پیر کی شب لندن پہنچ گئے تھے۔ ان کی قبل از وقت آمد کی وجہ آئس لینڈ کے ایک آتش فشاں سے خارج ہونے والی راکھ تھی جس کے باعث خطے میں فضائی پروازوں کی آمدورفت متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

صدر اوباما دورہ برطانیہ کے بعد فرانس جائیں گے جہاں وہ ’جی ایٹ‘ سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔ امریکی صدر کے دورہ یورپ کا آخری پڑاؤ پولینڈ ہوگا جہاں وہ وسطی یورپ کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے۔

اس سے قبل پیر کے روز صدر اوباما نے آئرلینڈ میں آئرش صدر میری مک ایلیس اور وزیرِاعظم اینڈا کینی سے ملاقاتیں کیں۔

آئرش رہنماؤں سے ملاقاتوں کے بعد امریکی صدر کا کہنا تھا کہ شمالی آئرلینڈ کی امن کی جانب پیش رفت یہ ظاہر کرتی ہے کہ ”طویل مدت تک اپنے حقوق کی جدوجہد کرنے والے لوگ کس طرح اپنے تعلقات کی دوبارہ تشکیل کرسکتے ہیں“۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور آئرلینڈ کے درمیان تعلقات صرف اسٹریٹیجک مفادات اور خارجہ پالیسی کے اصولوں پر ہی استوار نہیں بلکہ دونوں اقوام ”خون کے رشتوں“ سے جڑی ہوئی ہیں۔

اس سے قبل صدر اوباما نے پیر کے روز دارالحکومت ڈبلن میں ہزاروں افراد سے خطاب کرتے ہوئے امریکہ میں بسنے والے لاکھوں آئرش نژاد باشندوں کی جانب سے آئرلینڈ کے باسیوں کو نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا۔

واضح رہے کہ لگ بھگ تین کروڑ 70 لاکھ امریکی آئرش نژاد ہونے کے دعویدار ہیں۔

XS
SM
MD
LG