رسائی کے لنکس

logo-print

برطانوی نوجوان اجنبیوں سے نفرت کو مسترد کریں: صدر اوباما


برطانوی سیاستدان یورپی یونین سے علیحدہ ہونے کے حامی ہیں اور انھوں نے صدر اوباما کے اس بیان کو اپنے داخلی معاملات میں مداخلت تصور کرتے ہوئے اس کی مذمت کی تھی۔

امریکہ کے صدر براک اوباما برطانیہ نے برطانوی نوجوانوں پر زور دیا ہے کہ وہ مایوسی اور اجنبیوں سے نفرت کو مسترد کریں۔

ہفتہ کو لندن میں ایک ٹاؤن ہال مباحثے میں ان کا کہنا تھا کہ "ہمیں عالمگیریت اور اتحاد کو موقع کے طور پر دیکھنا چاہیے نا کہ خطرے کے طور پر۔"

انھوں نے مختلف امور پر نوجوانوں کے سوالوں کے جوابات بھی دیے۔ ان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ وہ آئندہ امریکی صڈر کو کیا کرتے ہوئے دیکھنا چاہیں گے اور وہ اپنے پیچھے کیا روایت چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں۔

صدر اوباما کا کہنا تھا کہ روایت سے متعلق انھیں دس سال پیچھے مڑ کر دیکھنا پڑے گا لیکن ان کے بقول وہ اس سارے عرصے میں مخلص رہے ہیں۔

امریکہ کے صدر ان دنوں برطانیہ کے دورے پر ہیں وہ برطانوی لیبر پارٹی کے سربراہ جرمی کوربائن سے علیحدگی میں ملاقات کریں گے۔

اوباما کی طرف سے آئندہ دنوں میں برطانیہ کے یورپی یونین میں رہنے یا علیحدہ ہونے پر ہونے والی رائے شماری سے متعلق بیان اس ملاقات میں موضوع بحث ہو سکتا ہے۔

جمعرات کو دیر گئے برطانیہ پہنچنے سے قبل اوباما کا ایک کالم اخبار "ٹیلیگراف" میں شائع ہوا تھا جس میں انھوں نے برطانیہ سے یورپی یونین میں شامل رہنے پر زور دیا تھا۔

برطانوی سیاستدان یورپی یونین سے علیحدہ ہونے کے حامی ہیں اور انھوں نے صدر اوباما کے اس بیان کو اپنے داخلی معاملات میں مداخلت تصور کرتے ہوئے اس کی مذمت کی تھی۔

دائیں بازو کی برٹش انڈیپنڈنس پارٹی کے رہنما نائجل فراج کہتے ہیں کہ یورپی یونین میں برطانیہ کی رکنیت سے اس ملک کا اپنی سرحدوں پر اختیار کمزور ہوا ہے کیونکہ تارکین وطن دیگر رکن ممالک میں جاتے ہیں اور پھر وہاں سے آزادانہ طور پر برطانیہ آ جاتے ہیں۔

لندن کے میئر بورس جانسن نے اوباما کو "دوغلا" قرار دیا اور کہا کہ "امریکہ کبھی بھی ایسے غور نہیں کرسکتا جس طرح یورپی یونین خود اپنے لیے کرتی ہے۔"

برطانیہ کے دورے کے بعد صدر اوباما جرمنی روانہ ہوں گے جہاں وہ چانسلر آنگیلا مرخیل سے ملاقات کریں گے۔

XS
SM
MD
LG