رسائی کے لنکس

logo-print

ٹروڈو کا والہانہ خیرمقدم، بات چیت موسمیات اور تجارت پر مرتکز


ٹروڈو کے ہمراہ ایک مشترکہ اخباری کانفرنس سے خطاب میں، اوباما نے کہا کہ ''ہمارے معاشرے تانے بانے کی طرح ایکساتھ پیوست ہیں، جس کے باعث ہم عام طور پر یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمارے تعلقات کی نوعیت کیا ہے''

امریکی اور کینیڈا کے پرچموں کی قطاروں کے بیچ کھڑے صدر براک اوباما نے جمعرات کو وائٹ ہائوس میں کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کا خیرمقدم کیا، جو کینیڈا کے کسی سربراہ کی جانب سے تقریباً دو عشرے بعد کیا جانے والا سرکاری دورہ ہے۔

ٹروڈو کے ہمراہ ایک مشترکہ اخباری کانفرنس سے خطاب میں، اوباما نے کہا کہ ''ہمارے معاشرے تانے بانے کی طرح ایکساتھ پیوست ہیں، جس کے باعث ہم عام طور پر یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمارے تعلقات کی نوعیت کیا ہے''۔

اس سے قبل، سائوتھ لان میں ٹروڈے کے لیے خیرمقدمی تقریب کے دوران، اوباما نے دونوں ملکوں کے مشترکہ اقدار کی نشاندہی کی، اس جانب دھیان مبذول کراتے ہوئے کہ صحت عامہ، مذہبی آزادی اور دونوں معاشروں میں تنوع کی سوچ اور انداز خاص اہمیت کا حامل ہے۔

صدر اوباما نے کہا کہ نیٹو اتحادیوں کی حیثیت سے، دونوں ملک دہشت گردی کے خلاف ہیں اور یوکرین جیسے ملکوں کے انسانی حقوق کے سلسلے میں متحد ہیں، تاکہ وہ اپنی قسمت کا خود فیصلہ کرسکیں۔ اقوام متحدہ کے قائدین کی حیثیت سے، ہم امن و سلامتی اور تمام لوگوں کے انسانی حقوق کے علمبردار ہیں۔

کینیڈا کے نئے وزیر اعظم کے روپ میں بہت سے لوگ اُنھیں جوان اوباما خیال کرتے ہیں۔ امریکی صدر کی طرح، 44 برس کے ٹروڈو امید اور تبدیلی کے یکساں پیغام کو لے کر آگے آئے ہیں۔ اُن کی لبرل پارٹی نے گذشتہ اکتوبر میں کینیڈا کے پارلیمانی انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کی، اور یوں، وزیر اعظم اسٹیفن ہارپر اور اُن کی کنزرویٹو پارٹی کو شکست ہوئی، جو سنہ 2006سے اقتدار میں چلی آرہی تھی۔

مذاق کے انداز میں، اوباما نے کہا کہ ''مسٹر وزیر اعظم آپ کے انتخاب اور عہدے پر فائر ہونے کے ابتدائی مہینوں کے دوران دکھائی گئی توانائی اور جوش خطابت کا نہ صرف کینیڈا معترف ہے، بلکہ ہمارے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات پر بھی اس کے اچھے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ دنیا کے بارے میں ہماری سوچ یکساں ہے۔ اور مجھے یہ کہنا ہے کہ میں نے کبھی امریکیوں کو کینیڈا کے کسی وزیر اعظم کے دورہ امریکہ کے دوران اتنا پُرجوش نہیں دیکھا''۔

جمعرات کو اوول آفس میں ہونے والے مذاکرات کے دوران دونوں سربراہان نے دھیان موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جدوجہد کرنے، تجارت کو تقویت دینے اور داعش کے شدت پسند گروپ کو شکست دینے پر مرکوز رکھا۔

اِس کے بعد، اُنھوں نے روز گارڈن میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کیا جس دوران امریکہ میں صدارتی انتخابات کے سال کے دوران کی امریکی سیاست پر بھی بات ہوئی۔

جب اُن سے پوچھا گیا کہ صدارتی انتخابات کا امریکہ کینیڈا تعلقات پر کیا اثر پڑے گا، اگر ریپبلیکن پارٹی کے امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ صدارت کا انتخاب جیت جاتے ہیں، تو کینیڈا کے وزیر اعظم نے کہا کہ ''ہمارے ملکوں کی دوستی دو افراد یا نظریات سے ماورا ہے''۔

ٹروڈو نے کہا کہ اُنھیں امریکی عوام میں پورا اعتماد ہے اور کوئی بھی جیتے اور کوئی بھی وائٹ ہائوس تک پہنچے، وہ اُن کے ساتھ کام کرنا چاہیں گے۔

XS
SM
MD
LG