رسائی کے لنکس

مال دار ملکوں میں مہاجرین کی آبادکاری کم ہورہی ہے، گوتیخش


امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹِلرسن نے عالمی یومِ مہاجرین کے موقع پر ایک بیان میں امریکہ کی جانب سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد جاری رکھنے کا وعدہ کیا

عالمی یومِ مہاجرین کے موقع پر اقوام متحدہ کی سکریٹری جنرل، اینٹونیو گئیٹریز نے منگل کے روز اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ مال دار ملکوں میں مہاجرین کی آبادکاری کا سلسلہ کم ہوتا جا رہا ہے۔

نیویارک میں اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ’’یہ خاصا پریشان کُن معاملہ ہے، خاص طور پر سیاسی اعتبار سے عوام کا حقِ حاکمیت کا اصول، اجنبیوں سے بیزاری کا معاملہ، نسل پرستی کا بڑھتا ہوا رجحان ۔۔ سبھی کا مہاجر ہی نشانہ بنتے ہیں۔ متعدد بار اُنھیں دہشت گردانہ خدشات کا حصہ ہونے کا الزام دیا جاتا ہے، جب کہ مہاجرین دہشت گرد نہیں ہوتے، تب بھی وہ دہشت گردی کا پہلا ہدف بنتے ہیں؛ وہ مہاجر بنتے ہی اِسی لیے ہیں کہ وہ دہشت گردی سے بھاگ نکلے ہیں‘‘۔

گئیٹریز نے مزید کہا کہ لوگوں کو یہ بات تسلیم کرنی ہوگی کہ مہاجر بحران کا انسانی ہمدردی کے پیمانے پر کوئی حل موجود نہیں ہے۔ لیکن، اس معاملے کو صرف سیاسی بنیاد پر ہی حل کیا جا سکتا ہے۔

اُنھوں نے دنیا بھر کے اِن بحرانوں کو حل کرنے پر زور دیا، جس بنا پر مہاجرین اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹِلرسن نے عالمی یومِ مہاجرین کے موقع پر ایک بیان میں امریکہ کی جانب سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد جاری رکھنے کا وعدہ کیا؛ جب کہ اُنھوں اُن ملکوں کا شکریہ ادا کیا جو مہاجرین کی آبادکار ی میں میزبانی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

پڑھ کر سنائے گئے بیان میں، اُنھوں نے کہا کہ ’’انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سب سے زیادہ رقوم فراہم کرنے والے ملک کے طور پر، امریکہ مہاجرین کی سب سے زیادہ اعانت کرتا ہے اور زبردستی نقل مکانی کےاسباب کے انسداد پر زور دیتا ہے‘‘۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین، فلپ گرانڈے نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ہم چھ کروڑ 50 لاکھ مہاجرین کے حوصلے کی داد دیتے ہیں، جو لڑائی، مظالم اور تشدد کے نتیجے میں اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG