رسائی کے لنکس

یورپی جہادیوں میں زیادہ تر نوجوان اور خواتین ہیں: یوروپول


فائل

یورپ میں تیزی سے بڑھتے ہوئے جہادی تشدد کے خدشات سے نمٹنے کے لیے، یورپی یونین کے سربراہان کہتے ہیں کہ آئندہ برسوں کے دوران سرحد پار اطلاعات کا تبادلہ زیادہ اہمیت کا حامل بن جائے گا

یورپ میں دہشت گرد حملے کرنے والے جہادی اب نوجوانوں کو استعمال کر رہے ہیں، جن میں سے زیادہ تر خواتین ہیں۔ یہ بات یورپ کے چوٹی کی قانون کے نفاذ سے متعلق ادارے نے جمعرات کو جاری کی گئی ایک نئی رپورٹ میں بتائی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ سال یورپ میں، پولیس نے 718 مبینہ جہادی دہشت گردوں کو گرفتار کیا، جب کہ 2014ء میں 395 جہادی گرفتار ہوئے تھے، یعنی تقریباً ایک تہائی کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔


گرفتار ہونے والوں میں سے تقریباً ایک تہائی 25 برس کی عمر کے پیٹے میں ہے، جب کہ چار میں سے ایک خاتون ہے۔

شام اور عراق کے میدانِ جنگ سے واپس آنے والی جہادی یورپی یونین کے لیے بڑھتے ہوئے خطرے کا باعث ہیں، ایسے میں جب حکام کو اس بات کا ڈر ہے کہ یورپ میں دھماکہ خیز مواد پھیلانے کے لیے ڈرون کا استعمال کر سکتے ہیں۔

یورپ میں تیزی سے بڑھتے ہوئے جہادی تشدد کے خدشات سے نمٹنے کے لیے، یورپی یونین کے سربراہان کہتے ہیں کہ آئندہ برسوں کے دوران سرحد پار اطلاعات کا تبادلہ زیادہ اہمیت کا حامل بن جائے گا۔

یورپی یونین کے مہاجرین کے کمشنر، دمتری آرموپولس نے کہا ہے کہ ’’آنے والے وقت میں دہشت گردی سے لڑائی ہماری اولین مشترکہ سیاسی ترجیح ہوگی، نہ صرف یورپ میں بلکہ عالمی سطح پر‘‘۔

اُنھوں نے کہا ہے کہ ’’ہمارے شہریوں کے تحفظ کے لیے اور ہمارے معاشرے کی یکجہتی کے سوال پر ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اطلاعات کا تبادلہ اور ساری سطحوں پر سرحد پار تعاون تیز کریں ‘‘۔

یوروپول کی رپورٹ میں کہا گیا کہ ہے اپنا پیغام عام کرنے اور حامی بھرتی کرنے کے لیے جہادی گروپوں نے جدید ترین سماجی میڈیا نیٹ ورک کا استعمال بڑھا دیا ہے۔

داعش نے اپنی وڈیو پیداوار کی رفتار کم کر دی ہے، ایسے میں جب وہ شام اور عراق میں اپنی خود ساختہ خلافت پر کنٹرول کے قیام کی جدوجہد جاری رکھی ہوئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، باہر سے سفر کرکے شام میں جہادی کم پہنچ رہے ہیں، جو ایک مثبت معاملہ ہوسکتا ہے۔ لیکن، ساتھ ہی، زیادہ جہادی یورپ واپس ہو رہے ہیں، جنھیں شام جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG