رسائی کے لنکس

logo-print

14 لاکھ سے زائد عازمین حج سعودی عرب پہنچ گئے


سعودی عرب کی وزارتِ ثقافت اور اطلاعات کے مطابق رواں سال حج کے لیے دنیا بھر سے 20 لاکھ عازمینِ حج کی مکہ آمد متوقع ہے

سعودی حکام کا کہنا ہے کہ اب تک 14 لاکھ سے زائد عازمین حج سعودی عرب پہنچ چکے ہیں اور اب بھی دنیا بھر سے مسلمانوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔

سعودی عرب کی وزارتِ ثقافت اور اطلاعات کے مطابق رواں سال حج کے لیے دنیا بھر سے 20 لاکھ عازمینِ حج کی مکہ آمد متوقع ہے جس کے بعد حج کا یہ اجتماع دنیا کا سب سے بڑا اجتماع بن جائے گا۔

حج اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک ہے اور ہر اس مسلمان پر زندگی میں کم از کم ایک بار فرض ہے جو مالی اور جسمانی طور پر یہ فریضہ ادا کرنے کی استطاعت رکھتا ہو۔

مکے میں فریضۂ حج کی ادائیگی کا مقصد روحانی پاکیزگی حاصل کرنا اور اللہ کے حضور ایک ہوکر حاضر ہونا ہے۔ حج کے ذریعے مسلمانوں میں برابری اور یکجہتی کا اظہاربھی ہوتا ہے۔

رواں سال مناسکِ حج کا آغاز 30 اگست سے ہوگا۔ سعودی حکومت نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان کی نگرانی میں حج کے انتظامات کیے ہیں۔

عازمین کی بڑے پیمانے پر نقل و حرکت اور لاجسٹکس کا سلسلہ 4 ستمبر کو حج کے اختتام تک جاری رہے گا۔

گزرتے وقت کے ساتھ غیر ملکی حجاج کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ سن 1941 میں حج ادا کرنے کے لیے سعودی عرب آنے والے غیر ملکی زائرین کی تعداد 24 ہزار تھی جو 2016ء میں 13 لاکھ سے تجاوز کرگئی تھی۔ گزشتہ سال مقامی سعودی زائرین سمیت 18 لاکھ سے زائد افراد نے حج ادا کیا تھا۔

سعودی عرب ہرسال عازمینِ حج کی بہت بڑی تعداد کو خوش آمدید کہتا ہے۔ ان میں سے اکثر عازمین مکہ کے بعد مسلمانوں کے لیے دوسرے مقدس ترین شہر مدینہ بھی جاتے ہیں۔

اس موقع پر عازمین حج سے براہ راست رابطے اور ان کے مسائل حل کرنے کے لیے جو حج ٹیمیں تعینات کی جاتی ہیں اس کے ارکان ایک درجن سے زائد زبانیں بول سکتے ہیں۔

منیٰ میں خیموں کا وسیع شہر

منیٰ کو ’خیموں کا شہر‘ بھی کہا جاتا ہے جہاں ہزاروں کی تعداد میں ایئر کنڈیشنڈ خیموں میں عازمینِ حج کو عارضی رہائش فراہم کی جاتی ہے۔ منیٰ، میدانِ عرفات اور مکہ کی مسجد الحرام کے درمیان واقع ہے۔

یہاں عازمین کے لیے لگائے جانے والے خیموں کو ترتیب سے قطارمیں لگایا اور مختلف گروپس میں بانٹا گیا ہے۔ ہر ملک کی مناسبت سے خیموں کو مخصوص نمبرز اور رنگ دیے گئے ہیں۔

ہرحاجی کو ایک بیج فراہم کیا گیا ہے جس پر نمبر اور رنگ درج ہے۔ راستہ بھولنے کی صورت میں حاجی اس بیج کی مدد سے اپنے خیمے تک پہنچ سکتے ہیں۔

آگ سے محفوظ رکھنے کی غرض سے خیموں کو ٹیفلون کوٹڈ فائبر گلاس سے بنایا گیا ہے اور ہر خیمے میں آگ بجھانے کے آلات بھی نصب ہیں۔

رواں برس 17,000 سے زائد سول ڈیفنس کے رضاکار حاجیوں کی دیکھ بھال کے لیے تعینات کیے گئے ہیں۔

اسی طرح عازمینِ حج کی سکیورٹی کے لیے 17,000 سے زائد تربیت یافتہ اہلکار تعینات کیے گئے جنہیں 3000 جدید ترین گاڑیاں مہیا کی گئی ہیں۔

ایمبولینسز کی تعداد 300 ہے جبکہ 30 موٹربائیکس، 113 ایمبولینس سینٹرز اور 8 ائیر ایمبولینس بھی عازمین حج کے لیے فراہم کی گئی ہیں۔

سعودی ہلال احمر کے 2000 سے زیادہ اہلکار مکہ، مدینہ اور دیگر مقدس مقامات میں تعینات کیے گئے ہیں تاکہ حج کے دوران عازمین کو ایمرجنسی طبی امداد فراہم کی جاسکے۔

XS
SM
MD
LG