رسائی کے لنکس

logo-print

سڑک سے ٹریش بیگ اٹھانے پر دس لاکھ ڈالر مل گئے


ریاست ورجینیا کے علاقے فریڈکس برگ کا ڈیوڈ جب کرونا وائرس کے لاک ڈاؤن کی وجہ سے کئی ہفتوں تک اپنے گھر کے اندر بند رہنے سے تنگ آ گیا تو اس نے ماحول کی تبدیلی اور تازہ ہوا میں سانس لینے کے لیے لانگ ڈرائیو پر جانے کا فیصلہ کیا۔

اس نے اپنی اہلیہ ایملی شانٹز اور بچوں کو اپنے پک اپ ٹرک میں بٹھایا اور گھر سے نکل پڑے۔

ان کا گھر کیرولین کاؤنٹی میں واقع ہے۔ راستے میں انہیں سڑک پر ٹریش کا ایک بڑا بیگ پڑا نظر آیا۔ ڈیوڈ نے یہ سوچ کر اسے اٹھا کر پک اپ میں رکھ لیا کہ وہ ٹریفک میں رکاوٹ نہ بنے۔ اور گھر پہنچ کر وہ اسے کوڑے دان میں پھینک دے گا۔ کچھ فاصلے پر اسے اسی طرح کا ایک اور ٹریش بیگ ملا۔ ڈیوڈ نے اسے بھی اٹھا لیا۔

جب سیر کے بعد وہ گھر پہنچے تو انہوں نے کوڑے کے ڈرم میں پھینکے کے لیے ٹریش بیگ گاڑی سے نکالے تو انہیں شبہ ہوا کہ اس میں کوڑا کرکٹ کی بجائے کچھ اور ہے۔ انہوں نے بیگ کھولا تو اس میں پلاسٹک کے کئی چھوٹے تھیلے تھے جن پر 'کیش بیگ' لکھا تھا۔ تھیلے کرنسی نوٹوں سے بھرے ہوئے تھے۔ دوسرے بیگ میں بھی اسی طرح کے کئی کیش بیگ تھے۔

انہوں نے کیرولین کاؤنٹی کے شیرف آفس کو اطلاع دی۔ شیرف نے اپنے ڈپٹی ان کے گھر بھیجے۔ جب انہوں نے تھیلوں سے کرنسی نوٹ نکال کر گنے تو وہ تقریباً دس لاکھ ڈالر تھے۔

شیرف میجر سکاٹ موسر نے میڈیا کو بتایا کہ حکام نے یہ پتا چلا لیا ہے کہ ٹریش بیگز میں کرنسی کہاں بھیجی جا رہی تھی۔ اب وہ یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ رقم گوچ لینڈ کاونٹی کی ایک سڑک کے درمیان کیسے پہنچی۔ تاہم، انہوں نے رقم کے مالک اور اس کی منزل کے متعلق کوئی وضاحت نہیں کی۔

شیرف موسر کا کہنا تھا کہ ڈیوڈ اور ایمیلی نے نہ صرف کسی کی رقم کو ضائع ہونے سے بچایا بلکہ دوسروں کے لیے ایمانداری کی ایک اعلیٰ ترین مثال بھی قائم کی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG