رسائی کے لنکس

logo-print

خیبر پختونخوا حکومت کا ایک سال مکمل، کیا کھویا کیا پایا؟


وزیراعلیٰ محمود خان کی حکومت کو پشاور بس منصوبے کی تکمیل میں بھرپور کوششوں کے باوجود کامیابی نہیں مل سکی ہے۔ (فائل فوٹو)

خیبر پختونخوا کی حکومت کا ایک سال مکمل ہوگیا ہے۔ ایک سال قبل جس وقت وزیر اعلیٰ محمود خان نے عہدہ سنبھالا تو کئی مسائل اور چیلنجز کا سامنا تھا۔ ان مسائل میں سے کچھ حل ہوگئے جبکہ کچھ تاحال حل ہونا باقی ہیں۔

صوبائی حکومت کو درپیش سب سے اہم مسئلہ امن و امان کا قیام تھا۔ جب کہ قبائلی اضلاع کے صوبے میں ضم ہونے، وہاں مختلف سرکاری محکموں کو توسیع دینا اور پہلے سے موجود سکیورٹی اداروں کو پولیس فورس میں کھپانے جیسے مسائل بھی محمود خان کی حکومت کو حل کرنا تھے۔

گزشتہ دو برسوں سے زیر تعمیر پشاور بس منصوبے کی تکمیل اور حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے مختلف الخیال ممبران اسمبلی کے مابین کابینہ کی تشکیل میں افھام و تفہیم پیدا کرنا بھی محمود خان کے لیے کسی چیلنج سے کم نہیں تھا۔

گو کہ کافی حد تک وزیر اعلیٰ محمود خان نے صوبے کے سیاسی اور انتظامی مسائل کے حل میں کامیابی حاصل کرلی ہے مگر پشاور بس منصوبے کی تکمیل میں اُن کی حکومت کو بھرپور کوششوں کے باوجود کامیابی نہیں مل سکی ہے۔

صوبائی حکومت کے لیے پشاور بس منصوبہ مکمل کرنا مشکل ہوگیا ہے جس نے شہریوں کو پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے۔
صوبائی حکومت کے لیے پشاور بس منصوبہ مکمل کرنا مشکل ہوگیا ہے جس نے شہریوں کو پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے۔

پشاور بس منصوبے نے نہ صرف پشاور کے شہریوں کو پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے بلکہ اس منصوبے کے باعث پاکستان تحریک انصاف کی ملک بھر میں مجموعی کارکردگی پر سوالات اٹھائے بھی جا رہے ہیں۔

عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد وزیراعلیٰ محمود خان کے سامنے پارٹی میں پہلے سے موجود گروہ بندیوں پر قابو پانا اور ان گروہوں سے تعلق رکھنے والے ممبران میں سے وزارتوں اور مشیروں کے عہدے طے کرنا تھا۔

بظاہر وزیراعلیٰ ان گروہوں سے تعلق رکھنے والے بعض اہم افراد کو وزارتوں اور مشیروں کے عہدوں پر فائز کر کے معاملات حل کرلیے ہیں مگر پارٹی میں اندرونی اختلافات اور گروہ بندیوں کا وجود اب تک برقرار ہے۔

قبائلی اضلاع:

وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کا خیبر پختونخوا میں انضمام ایک ایسے وقت میں ہوا تھا جب گزشتہ پارلیمنٹ کی معیاد میں صرف چند روز ہی باقی تھے۔ نگراں حکومت کے لیے قبائلی علاقوں اور صوبے کے سرکاری اداروں بشمول عدلیہ اور پولیس فورس کو توسیع دینا ممکن ہی نہیں تھا۔

اس مسئلے کے حل کے لیے وزیر اعلیٰ محمود خان نے قبائلی علاقوں کے انضمام پر پوری توجہ دی۔ ان علاقوں میں اداروں کے قیام کے لیے گورنر خیبر پختونخوا اور کور کمانڈر پشاور کے ساتھ مل کر ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دی گئی جبکہ ان علاقوں میں سیاسی اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے کابینہ میں ایک خصوصی مشیر کو بھی تعینات کیا گیا۔

قبائلی اضلاع میں عوامی مسائل کے حل اور حکومت کے ترقیاتی ایجنڈے کی تکمیل میں سب سے اہم رکاوٹ وسائل کی کمی ہے۔
قبائلی اضلاع میں عوامی مسائل کے حل اور حکومت کے ترقیاتی ایجنڈے کی تکمیل میں سب سے اہم رکاوٹ وسائل کی کمی ہے۔

ماضی کی نسبت 2018 کے عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کو قبائلی اضلاع میں کافی پذیرائی حاصل ہوئی تھی۔ کُل 12 نشستوں میں سے چھ نشستوں پر پاکستان تحریک انصاف کے نامزد کردہ جبکہ تین پر جمعیت علماء اسلام (ف) نے اور دو پر آزاد امیدواروں نے کامیابی حاصل کی تھی۔

قبائلی اضلاع میں عوامی مسائل کے حل اور حکومت کے ترقیاتی ایجنڈے کی تکمیل میں سب سے اہم رکاوٹ وسائل کی کمی ہے۔

انضمام کے وقت وفاق اور صوبوں نے قومی مالیاتی کمیشن سے سالانہ 3 فیصد وسائل قبائلی علاقوں کی ترقی پر خرچ کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ مگر اب تک وفاق اور باقی تین صوبوں نے یہ وسائل فراہم نہیں کیے جس کی وجہ سے علاقے کے لوگوں سے کیے گئے وعدے اب تک ایفا نہیں ہو سکے۔

مالی مشکلات کے باوجود صوبائی حکومت نے قبائلی اضلاع میں پہلے سے موجود خاصہ دار اور لیویز فورس کے لگ بھگ 28 ہزار اہلکاروں کو خیبر پختونخوا پولیس کا حصہ بنا دیا ہے۔

تمام سات اضلاع میں ضلعی پولیس افسران کا تقرر عمل میں آچکا ہے جبکہ تمام اضلاع میں تھانے قائم کر دیے گئے ہیں۔

اسی طرح تمام اضلاع میں عدالتی نظام باقاعدہ طور پر قائم کردیا گیا ہے۔ صوبے کے تقریباً 32 سرکاری اداروں نے باقاعدہ طور پر اپنے دفاتر اور ذمے داریاں قبائلی علاقوں کو منتقل کر دی ہیں۔

ضلع خیبر سے پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی نے وزیراعلیٰ محمود خان اور صوبائی حکومت کی ایک سالہ کارکردگی کو قبائلی اضلاع کے حوالے سے انتہائی نتیجہ خیز قرار دیا ہے۔

قبائلی اضلاع کی سکیورٹی فورسز کو خیبر پختونخوا پولیس میں ضم کرلیا گیا ہے۔
قبائلی اضلاع کی سکیورٹی فورسز کو خیبر پختونخوا پولیس میں ضم کرلیا گیا ہے۔

تاہم شمالی وزیرستان سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے نو منتخب رکن صوبائی اسمبلی میر کلام خان نے صوبائی حکومت کی کارکردگی کو انتہائی مایوس کن گردانہ ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ شمالی وزیرستان کے مسائل کے حل کے لیے صوبائی حکومت نے وہ کردار ادا نہیں کیا جس کی توقع کی جارہی تھی۔

صوبائی حکومت نے تمام سرکاری محکموں میں کفایت شعاری کو فروغ دینے کا اعلان کیا مگر مبینہ طور پر بعض وزرا اور افسران کے عدم تعاون کی وجہ سے کفایت شعاری کے منصوبے کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوسکے۔

پی ٹی ایم:

قبائلی اضلاع میں سب سے اہم مسئلہ پشتون تحفظ تحریک (پی ٹی ایم) کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور سرکاری اداروں پر اثر انداز ہونا تھا۔ پچھلے ایک سال میں اس تنظیم کے درجنوں افراد کے خلاف مختلف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

بعض افراد کے خلاف غداری اور دہشت گردی میں ملوث ہونے کے الزام میں بھی مقدمات درج ہیں۔

صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسف زئی نے وزیراعلیٰ محمود خان کی کارکردگی کو انتہائی اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ پچھلے ایک سال میں صوبے میں مثالی امن اور سیاسی استحکام رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس دوران صوبے میں معاشی سرگرمیاں بھی جاری رہی ہیں جبکہ سرمایہ کاری کا تناسب بھی ملک کے دیگر صوبوں کی طرح رہا ہے۔

تاہم حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے بعض ممبران اسمبلی وزیراعلیٰ محمود خان کی کارکردگی سے زیادہ خوش نہیں دکھائی دیتے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے صوبائی حکومت کی کارکردگی کو مایوس کن قرار دیا اور کہا کہ ابھی تک وزیر اعلیٰ نے کابینہ کی تشکیل کو بھی مکمل نہیں کیا۔ صرف 17 محکمے وزیر اعلیٰ کے پاس ہیں جبکہ زیادہ تر وزرا اسمبلی کے اجلاس سے غائب رہتے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے پچھلے ایک سال میں کوئی بڑا منصوبہ شروع نہیں کیا ہے اور نہ ہی حزب اختلاف کو اعتماد میں لے کر قانون سازی کی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG