رسائی کے لنکس

وہ 14 ارکان کون ہیں؟


فائل فوٹو
فائل فوٹو

پاکستان کے ایوانِ بالا سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کی ناکامی اپوزیشن کے لیے جہاں خفت کا باعث بنی ہوئی ہے وہیں انہیں ان 14 سینیٹرز کی بھی تلاش ہے جنہوں نے اپنی جماعت کے ساتھ وفاداری نہیں کی۔

مشترکہ اپوزیشن ایوانِ بالا میں واضح اکثریت رکھنے کے باوجود شکست کی وجوہات ڈھونڈ رہی ہے۔

ایوانِ بالا کی تاریخ میں پہلی بار چیئرمین کے خلاف پیش کی جانے والی تحریکِ عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے اپوزیشن رہنما پر امید تھے کہ وہ حکومت کو شکست دینے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

تاہم، اپنے پہلے ہی انتہائی اقدام کی ناکامی نے اپوزیشن اتحاد کے مستقبل پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے اپنی جماعت کے سینیٹرز اور رہنماؤں کے ساتھ اجلاس کیا اور سینیٹ میں عدم اعتماد کی تحریک کی ناکامی کی وجوہات کا جائزہ لیا۔

شہباز شریف نے سینیٹر رانا مقبول کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو تحقیقات کے ذریعے پارٹی کے ان سینیٹرز کے نام سامنے لائے گی جنہوں نے خفیہ رائے دہی میں جماعت کے فیصلے کے خلاف ووٹ دیا۔

خیال رہے کہ جمعرات کو ہونے والے سینیٹ کے خصوصی اجلاس میں مشترکہ اپوزیشن کے 64 اراکین موجود تھے جن میں سے صرف 50 سینیٹرز نے چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کے حق میں ووٹ ڈالا۔

خفیہ رائے شماری کے ذریعے صادق سنجرانی کو 45 ووٹ ملے جن میں حکومتی اتحاد کے 36 سینیٹرز کے علاوہ اپوزیشن کے 9 اراکین کے ووٹ بھی شامل تھے جب کہ پانچ ووٹ مسترد کیے گئے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں سینیٹر مشاہد اللہ خان، احسن اقبال اور مریم اورنگزیب نے کہا کہ اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے طے کیا ہے کہ وہ ان 14 سینیٹرز کا تعیّن کر کے ان کے نام عوام کے سامنے لائیں گے جنہوں نے صادق سنجرانی کے خلاف تحریک کے حق میں ووٹ نہیں دیا۔

پریس کانفرنس میں احسن اقبال تو یہ سوال کرتے دکھائی دیے کہ اپوزیشن کے 14 سینیٹرز پر کس نے دباؤ ڈالا؟

دوسری جانب حکومتی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ عدم اعتماد کی تحریک اپوزیشن کو پیغام ہے کہ جمہوری اداروں کے خلاف ان کی سازشیں کامیاب نہیں ہوں گی۔

قائدِ ایوان شبلی فراز نے عدم اعتماد کی تحریک میں سینیٹرز پر دباؤ ڈالنے اور ہارس ٹریڈنگ کے الزامات کی تردید کی ہے۔ ان کے بقول، اپوزیشن کے سینیٹرز نے اصولی موقف کو ووٹ دیا۔

اپوزیشن کی دیگر جماعتیں بھی تذبذب کا شکار ہیں کہ ایوانِ بالا میں ظاہری طور پر اس ناکامی کے بعد وہ اب کیا قدم اٹھائیں اور کیا حکمت عملی اپنائیں۔

پیپلز پارٹی کے سینیٹرز نے اپنے استعفے بلاول بھٹو کو پیش کر دیے ہیں اور مشترکہ اپوزیشن نے اپنی مستقبل کی حکمت عملی کے لیے آئندہ ہفتے کُل جماعتی کانفرنس بلانے کا اعلان کیا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ سینیٹ میں ناکامی اپوزیشن کی حکومت مخالف تحریک کو بڑا دھچکا ہے۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار فاروق اقدس کہتے ہیں کہ عدم اعتماد کی تحریک کی ناکامی کے اپوزیشن اور ان کی آئندہ کی حکمت عملی پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت مخالف تحریک کے محرک مولانا فضل الرحمٰن دو روز سے سیاسی منظر نامے پر دکھائی نہیں دے رہے، اور ان کے بقول، اپوزیشن کی یہ تحریک شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہو گئی ہے۔

فاروق اقدس کہتے ہیں کہ مشترکہ اپوزیشن ان 14 سینیٹرز کے نام سامنے نہیں لا سکے گی کیونکہ یہ عمل خود کو برہنہ کرنے کے مترادف ہوگا اور اپوزیشن کے پاس اس معاملے میں اب لکیر پیٹنے کے سوا کچھ نہیں رہا۔

بعض تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ایوان کی سیاست اور عوام کی سیاست میں فرق ہوتا ہے اور ضروری نہیں ایوانِ بالا میں حکومت سے شکست کھانے والی اپوزیشن سڑکوں پر بھی ناکام ہو۔

XS
SM
MD
LG