رسائی کے لنکس

logo-print

آرمی چیف کی مدتِ ملازمت، قانون سازی آئندہ چھ ماہ میں کیسے ممکن؟


سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں چھ ماہ کی منظوری دی ہے۔ (فائل فوٹو)

پاکستان کی سپریم کورٹ نے برّی فوج کے موجودہ سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں چھ ماہ کی توسیع کی مشروط منظوری دی ہے تاکہ اس حوالے سے جامع قانون سازی کی جا سکے۔

عدالتی حکم جاری ہونے کے بعد حکومتی عہدے داروں نے اس پر اطمینان کا اظہار کیا ہے جب کہ حزب اختلاف کی جماعتیں اعلیٰ عدالت میں جاری اس کارروائی کا خاموشی سے مشاہدہ کرتی رہی ہیں۔ تاہم آج عمران خان نے اپنے ٹوئٹس میں کہا ہے کہ اس فیصلے سے اندرون ملک مافیاز اور دولت لوٹ کر باہر لے جانے والوں کو مایوسی ہوئی ہے۔

ایک طرف آرمی چیف کی توسیع پر سپریم کورٹ میں سوال جواب جاری تھے تو دوسری طرف سوشل میڈیا پر بعض نامعلوم گروپس چیف جسٹس کے خلاف سرگرم ہو گئے اور انہیں غیرملکی ایجنٹ تک کہا گیا جس پر آج کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے بھی سوال اٹھایا۔ چھ مہینے کی توسیع کی اجازت دیے جانے کے بعد عمران خان نے اپنے ایک اور ٹوئٹ میں چیف جسٹس آصف کھوسہ کی تعریف کرتے ہوئے دکھائی دیے۔

اس معاملے پر ملک کی حزب اختلاف کی جماعتوں کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کی جانب سے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے لیے جاری کردہ نوٹیفکیشن کا متعدد بار قانونی بنیادوں پر مسترد ہو جانا، نہ صرف فوج بلکہ ملک کے لیے بھی شرمندگی کا سبب بنا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما سینیٹر پرویز رشید نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کے اپنے بیانات کے مطابق انہوں نے جنرل باجوہ کی توسیع کے لیے جون سے کام شروع کر دیا تھا۔

ان کے بقول نومبر میں ایسے بے سروپا نوٹیفکیشن جاری ہونے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت کے لیے اتنا لمبا عرصہ بھی نا کافی تھا۔

پرویز رشید نے کہا کہ جو کام موجودہ حکومت سے گزشتہ چھ ماہ میں نہیں ہو سکا وہ آئندہ چھے مہینوں میں کیسے ہو جائے گا؟

انہوں نے کہا کہ حکومت کی حالت دیکھ کر لگتا ہے کہ دو سطریں بھی قانونی معیار کے مطابق نہیں لکھی جا سکتیں۔

کیا اپوزیشن جماعتیں اس قانون کو وضع کرنے پر پی ٹی آئی کی معاونت کریں گی؟ اس سوال کے جواب میں پرویز رشید نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں شروع سے ہی قانون سازی کا حصہ بننا چاہتی تھیں۔ لیکن حکومتی وزرا اور خاص طور پر وزیرِ اعظم عمران خان کے الزام تراشیوں پر مبنی بیانات نے اپوزیشن کو نہ صرف دیوار سے لگایا بلکہ مجبور کیا کہ وہ آزادی مارچ کا حصہ بنیں اور نئے انتخابات کا مطالبہ بھی کریں۔

پرویز رشید کا کہنا تھا کہ ایک طرف اگر اپوزیشن کو مافیا اور ڈاکو قرار دیا جاتا ہے تو پھر یہ سوچنے والی بات ہے کہ پارلیمان میں قانون سازی کیسے ممکن ہوگی اور حزبِ اختلاف کی جماعتیں کس حیثیت میں ان کا ساتھ دے سکیں گی؟

ان کا کہنا تھا کہ یہ وزیرِ اعظم عمران خان اور ان کے رفقا پر منحصر ہوگا کہ وہ اس معاملے کو مزید پیچیدگیوں سے بچاتے ہوئے اہم قومی تقرری کو تنازعات سے دور رکھنے میں کیسے کامیاب ہوتے ہیں۔

کیا پارلیمنٹ اگلے چھ ماہ میں فوجی سربراہ کی تقرری کے حوالے سے مؤثر قانون سازی کر سکے گی؟ اس بارے میں وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا کہ ایسے غیر سنجیدہ نوٹیفکیشنز کا جاری ہونا حکومت کی نا اہلی کا ثبوت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں فوج کے کئی سربراہان کو توسیع دی گئی ہے۔ لیکن ایک قانونی ٹیم اس پر حکومت کی معاونت کرتی تھی۔

ان کے بقول اس بار توسیع کی منظوری کا سفر وزیرِ اعظم کی ٹیبل پر ہاتھ سے تحریر شدہ ایک عام سے اعلامیے کی شکل میں شروع ہوا جو غیر قانونی تھا۔

قمر زمان کائرہ کے مطابق صدرِ پاکستان کا دفتر جو توسیعی نوٹیفکیشن کے اجرا کا مجاز ہے، اس تمام معاملے سے لمبے عرصے تک نابلد رہا۔

قمر زمان کائرہ نے کہا کہ پاکستان کے فوجی قوانین انگریز دور سے چلے آرہے ہیں جن میں تبدیلی اور بہتری کی گنجائش موجود ہے۔

ان کے بقول موجودہ حکومت کا غیر ذمہ دارانہ رویہ دیکھ کر ایسا نہیں لگتا کہ یہ معاملہ احسن طریقے سے انجام کو پہنچے گا۔

قمر زمان کائرہ نے کہا کہ اپوزیشن ملکی مفاد کے کسی بھی معاملے پر حکومت سے مل کر کام کرنے کو تیار ہے۔ لیکن یہ حکومت کے رویے پر منحصر ہوگا۔

دوسری طرف جمعیت علما اسلام (ف) کے ترجمان حافظ حسین احمد نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ان کی جماعت موجودہ حکومت کی آئینی حیثیت پر پہلے ہی سوالات اٹھا چکی ہے۔ ایسے میں اگلے چھ ماہ میں نئے انتخابات تو ہو سکتے ہیں لیکن نیا قانون تشکیل نہیں دیا جا سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ جے یو آئی (ف) اب بھی اسی مؤقف پر قائم ہے کہ موجودہ حکومت نا اہل ہے اور یہ بات آج ایک بار پھر ثابت ہو گئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG