رسائی کے لنکس

logo-print

پی ایم ایل ن کا قومی اسمبلی کے باہر احتجاجی مظاہرہ


شہباز شریف کی گرفتاری پر پاکستان مسلم لیگ(ن) کا قومی اسمبلی کے باہر بھرپور احتجاج، ایم این ایز اور پارٹی رہنماؤں نے شاہراہ دستور پر دھرنا دیدیا اور اپنی اسمبلی سڑک پر ہی لگا لی۔

شہباز شریف کی گرفتاری کے خلاف مسلم لیگ (ن) کے 100 سے زائد ارکان نے احتجاج میں شرکت کی جب کہ متحدہ مجلس عمل کے 2 ارکان بھی اظہار یکجہتی کے طور پر شریک ہوئے۔

مسلم لیگ ن کے ارکان قومی اسمبلی نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر شاہرہ دستور پر احتجاجی اجلاس منعقد کیا، ایاز صادق نے اسمبلی کی کارروائی چلانے کے لیے باقاعدہ گاؤن پہن کر ایک کرسی پر بیٹھ کر اجلاس چلایا، احتجاجی اسمبلی کی صدارت سابق اسپیکر ایاز صادق نے کی، اجلاس کا آغاز مرتضیٰ جاوید عباسی نے تلاوت کر کے کیا۔

احتجاجی اجلاس سےایم این ایز کے ساتھ ساتھ غیر اراکین نے بھی خطاب کیا، عثمان کاکڑ نے کہا کہ غیر جمہوری قوتوں نے تحریک انصاف کو مسلط کیا، الیکشن سے پہلے نواز شریف، مریم نواز کیخلاف فیصلہ دیا گیا۔ شہباز شریف کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہیں، جمہوری اور غیرجمہوری قوتوں کے درمیان ہے۔ ہم آئین کی حکمرانی چاہتے ہیں۔ چیف الیکشن کمیشن اور نیب کے چیئرمین کو بھی مستعفی ہونا چاہیے۔

سابق وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا کہ آج اجلاس سڑک پر ہو رہا ہے۔ لیکن پارلیمنٹ پر حملہ نہیں ہو رہا۔

سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ پارلیمنٹ کی بالادستی سب سے اہم ہے اور ہم یہ بالادستی منوا کر رہیں گے۔

سینیٹر جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم نے کہا کہ شہباز شریف کو کرپشن کے الزام پر نہیں پکڑا گیا، لیکن اختیارات کے غلط استعمال کے الزام پر پکڑا گیا۔ انہوں نے نیب کے کردار پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔

اس صورتحال پر وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا کہ ہم بڑے ڈاکوؤں سے پیسہ نکلوانے کی کوشش کر رہے ہیں اور 10 سال کی پرانی کرپشن پر کمیشن بنانے کا بل اسمبلی میں دوں گا۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ کے دوران فواد چوہدری نے کہا کہ ’’اپوزیشن ارکان رات کو میڈیا پر آکر ہمیں بتاتے ہیں کہ کیا کرنا چاہیے، اپوزیشن شور مچانے کے بجائے الزامات کا جواب دے۔ ہم بڑے ڈاکوؤں سے پیسہ نکلوانے کی کوشش کر رہے ہیں جب کہ 10 سال کی پرانی کرپشن پر کمیشن بنانے کا بل اسمبلی میں دوں گا‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو مکمل معاشی طور پر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جب کہ چینی سرمایہ کاری سے ہمارے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم مکمل محفوظ اسکیم ہے، غریب عوام کو صحت کی سہولت دینے کے لئے ہیلتھ کارڈ کا اجرا کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کی کارکردگی مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ اسلام آباد ایئرپورٹ کا جامع آڈٹ کرایا جائے گا، نیو اسلام آباد ایئرپورٹ کی لاگت 38 ارب سے بڑھ کر 100 ارب کیسے ہوگئی، اس کا حساب کون دے گا۔ سگریٹ مافیا کے خلاف بھی بڑے کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے۔ سگریٹ پر ٹیکس نہ دینے والی کمپنیوں کے خلاف سخت ایکشن ہوگا جب کہ اس سال کے اختتام تک غیر قانونی موبائل فون ملک میں کام نہیں کر سکیں گے۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پی آئی اے 406 ارب کی مقروض ہے، پی آئی اے ہر ماہ آپریشن اخراجات کیلئے 2 ارب خسارہ کرتی ہے۔ تاہم، پی آئی اے کا ری اسٹرکچرنگ پلان کابینہ کو پیش کیا ہے۔ وائس چیف آف ائیرسٹاف ائیر مارشل ارشد ملک کو چیئرمین پی آئی اے لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، چیرمین پی آئی اے کو کہا گیا ہے کہ ادارے کی مالی مشکلات کو فوری حل کریں۔

اپوزیشن کے دھرنے میں پیپلز پارٹی کے ارکان شامل نہیں ہوئے۔ اجتجاج کے موقع پر ’’جعلی وزیر اعظم نامنظور‘‘ کے نعرے بھی لگائے گئے۔ اپوزیشن کے اجلاس میں سات قراردادیں بھی منظور کی گئیں، جن میں حکومت کو قومی خزانے کو نقصان پہنچانے، سی پیک کو متنازع بنانے، آئی ایم ایف کی شرائط ماننے سمیت مختلف معاملات پرحکومت کی مذمت کی گئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG