رسائی کے لنکس

logo-print

حزبِ اختلاف کی جماعتوں کو اسمبلی اجلاس کا 'انتظار'


پاکستان کی قومی اسمبلی (فائل فوٹو)

اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف قومی اسمبلی کے افتتاحی اجلاس کے موقع پر احتجاج کی حکمتِ عملی طے کرلی ہے۔

حکومت بنانے والی جماعت کے ارکانِ اسمبلی کو تو جلد از جلد حلف لینے کا انتظار ہوتا ہی ہے، لیکن اس بار اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے والی جماعتوں کو بھی قومی اسمبلی کے اجلاس کا شدت سے انتظار ہے۔

اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف قومی اسمبلی کے افتتاحی اجلاس کے موقع پر احتجاج کی حکمتِ عملی طے کرلی ہے۔

سابق جکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) اور 2013ء سے 2018ء تک اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے والی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے علاوہ متحدہ مجلسِ عمل، عوامی نیشنل پارٹی اور دیگر ہم خیال جماعتیں پاکستان تحریکِ انصاف کے خلاف احتجاج کے لیے ہاتھ ملا چکی ہیں۔

تمام اپوزیشن جماعتوں کا مؤقف ہے کہ 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں دھاندلی کی گئی جس کا فائدہ تحریکِ انصاف کو پہنچا۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان اور سابق وزیرِ مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگ زیب نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کو دھاندلی شدہ مینڈیٹ دینے کی کوشش کی گئی ہے اور پی ٹی آئی اب ان کے بقول چھانگا مانگا کی سیاست کر رہی ہے۔

مریم اورنگ زیب کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس ہوتے ہی دھاندلی کے خلاف وائٹ پیپر جاری کیا جائے گا جس کے ساتھ ہی تمام فرانزک شواہد اور کیمرہ کی فوٹیجز بھی پیش کی جائیں گی۔

مریم اورنگ زیب نے کہا کہ جب حکومت بن جائے گی تو دھاندلی کے خلاف مشترکہ پارلیمانی کمیٹی بنانے کا مطالبہ کریں گے جس کے ٹرمز آف ریفرینس بعد میں طے کیے جائیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کا دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ اتحاد انتخابی دھاندلی کے خلاف ہے اور اس کا مقصد 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات میں کی گئی دھاندلی کو بے نقاب کرنا ہے۔

مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ مشترکہ اپوزیشن کے اس پلیٹ فارم سے ان کی جماعت اور اس کے اتحادی پارلیمان کے اندر اور باہر احتجاج جاری رکھیں گے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ کہتے ہیں کہ اپوزیشن اتحاد میں شامل تمام جماعتیں مل کر اسمبلیوں کے اندر اور باہر احتجاجی تحریک چلائیں گی۔

ان کے بقول جہاں ضرورت ہو گی وہاں اتحاد میں شامل جماعتیں مشترکہ حکمتِ عملی بنائیں گی اور ان کی کوشش ہو گی کہ حکومت کو ٹف ٹائم دیں۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ نے الزام لگایا کہ اس بار دھاندلی بہت منظم انداز میں کی گئی جس کا ایک حصہ الیکشن سے پہلے تھا اور ایک الیکشن والے دن۔

پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ حکومت بنانے والی جماعت بھی دھاندلی کا کہہ رہی ہے اور اس کی اتحادی جماعتیں ایم کیو ایم، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس اور دیگر جماعتیں بھی دھاندلی کا شکوہ کر رہی ہیں۔

قمر زمان کائرہ نے کہا کہ نئے پاکستان بنانے کے دعویداروں نے عوام کو ایک کروڑ ملازمتیں دینے، 50 لاکھ گھر بنانے اور دیگر بہت سے خواب دکھائے ہیں جنہیں اب پورا کرنے کا وقت آ گیا ہے۔

حزبِ اختلاف کی جانب سے احتجاج کے اعلان پر پاکستان تحریکِ انصاف کے ترجمان فواد احمد چوہدری کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کو اب صبر سے کام لینا چاہیے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدی نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں اب صرف احتجاج ہی کریں گی۔ ان کے بقول پاکستانی عوام نے ان جماعتوں کی کارکردگی دیکھ کر ہی عمران خان کے نظریے کو ووٹ دیے ہیں۔

قومی اسبلی کا افتتاحی اجلاس 13 اگست بروز پیر طلب کرلیا گیا ہے جس میں نو منتخب ارکان حلف اٹھائیں گے۔ امکان ہے کہ متحدہ اپوزیشن اس موقع پر ایوان میں احتجاج کرے گی۔

چودہ اگست کو اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کے لیے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے جائیں گے جب کہ 15 اگست کو اسپیکر قومی اسمبلی اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب کیا جائے گا۔

16 اگست کو قائدِ ایوان کے لیے کاغذاتِ نامزدگی جمع ہوں گے۔

متحدہ اپوزیشن کی جماعتوں نے تینوں عہدوں کے لیے مشترکہ امیدوار لانے کا اعلان کیا ہے۔

حزبِ اختلاف کی جانب سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف وزارتِ عظمیٰ، پاکستان پیپلز پارٹی کے سید خورشید شاہ اسپیکر جب کہ متحدہ مجلسِ عمل کے مولانا اسد الرحمان ڈپٹی اسپیکر کے امیدوار ہوں گے۔

پاکستان تحریکِ انصاف نے پارٹی سربراہ عمران خان کو وزیرِ اعظم جب کہ سابق اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی اسد قیصر کو قومی اسمبلی کا نیا اسپیکر نامزد کیا ہے۔

پی ٹی آئی نے تاحال ڈپٹی اسپیکر کے لیے اپنے امیدوار کا اعلان نہیں کیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG