رسائی کے لنکس

متحدہ اپوزیشن کا الیکشن کمیشن سے مستعفی ہونے کا مطالبہ


حزبِ مخالف کی جماعتوں کے اتحاد کی اپیل پر اسلام آباد کے علاوہ ملک کے دیگر شہروں میں بھی بدھ کو احتجاج کیا جارہا ہے۔

حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے 25 جولائی کے انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلی پر الیکشن کمیشن سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

حزبِ اختلاف کے رہنماؤں نے یہ مطالبہ بدھ کو مبینہ انتخابی دھاندلی کے خلاف اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے دفتر کے سامنے ہونے والے احتجاجی مظاہرے کے دوران کیا۔

حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد نے 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی اور نتائج میں رد و بدل کے خلاف بدھ کو ملک بھر میں احتجاج کی کال دی تھی۔

اتحاد کی اپیل پر مرکزی احتجاج اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے دفتر کے سامنے کیا گیا جس میں اتحاد میں شامل جماعتوں کے رہنما اور کارکن شریک ہوئے۔

اس موقع پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیرِ داخلہ احسن اقبال نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات سے قبل حزبِ مخالف کی جماعتوں بالخصوص مسلم لیگ (ن) کے لیے مشکلات کھڑی کی گئی تھیں اور پولنگ کے بعد ان کی جماعت کے پولنگ ایجنٹوں کو کئی مقامات پر پولنگ اسٹیشن سے نکال دیا گیا اور گنتی کے عمل میں شامل نہیں کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ بے شمار حلقے ایسے ہیں جہاں جیتنے اور ہارنے والے امیدواروں کے درمیان ووٹوں کا فرق مسترد شدہ ووٹوں سے کم ہے اور ہمارا مطالبہ ہے کہ ان مسترد ہونے والے ووٹوں کی فارنزک تحقیقات ہونی چاہئیں۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ احتجاج کرنے والی حزبِ مخالف کی جماعتوں کا الیکشن کمیشن سے مطالبہ ہے کہ وہ اپنے اختیارات کو استعمال کرے کیونکہ ان کے بقول الیکشن کمیشن کی کمزوری کی وجہ سے یہ تمام شکایت پیدا ہوئی ہیں۔

احتجاج میں شریک پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ انہیں یہ انتخابات نامنظور ہیں۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو فی الفور استعفیٰ دینا چاہیے اور جب تک وہ استعفیٰ نہیں دیں گے اس وقت تک ان انتخابات میں ہونے والی دھاندلی کا مداوا نہیں ہو گا۔

احتجاج کے دوران وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے متحدہ مجلس عمل کے رہنما عبدالغفور حیدری کا کہنا تھا کہ 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات تمام جماعتوں کو نامنظور ہیں جو ان کے بقول کل جماعتی کانفرنس میں ان انتخابات کو مسترد کرچکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ پوری دنیا یہ دیکھے کہ پاکستان میں کس طرح کا انتخاب ہوا اور کس طرح ان انتخابات میں من پسند لوگوں اور من پسند جماعتوں کو سلیکٹ کیا گیا اور باقی قومی قیادت کو ہرایا گیا۔

بدھ کو احتجاج کی اپیل کرنے والی جماعتوں میں پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، متحدہ مجلسِ عمل، عوامی نیشنل پارٹی، نیشنل پارٹی اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی شامل تھیں۔

ان تمام جماعتوں کا مؤقف ہے کہ 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات شفاف نہیں تھے اور کئی حلقوں میں انتخابی نتائج تبدیل کرکے تحریکِ انصاف کو فائدہ پہنچایا گیا۔

احتجاج کی اپیل حزبِ مخالف کی جماعتوں کے اتحاد نے کی ہے۔
احتجاج کی اپیل حزبِ مخالف کی جماعتوں کے اتحاد نے کی ہے۔

انتخابات میں قومی سطح پر کامیابی حاصل کرنے والی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ پر امن احتجاج حزبِ اختلاف کا حق ہے۔

حزبِ مخالف کی جماعتوں کے اتحاد کی اپیل پر اسلام آباد کے علاوہ ملک کے دیگر شہروں میں بھی بدھ کو احتجاج کیا گیا۔

کوئٹہ سے وائس آف امریکہ کے نمائندے ستار کاکڑ کے مطابق بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سخت احتجاج کیا گیا اور بلوچستان کو ملک کے دیگر صوبوں سے ملانے والی تینوں مرکزی قومی شاہراہوں کو متحدہ مجلسِ عمل کے کارکنوں نے ہر طرح کی ٹر یفک کے لیے بند کر دیا۔

جمعیت علماء اسلام کے صوبائی جنرل سیکریٹری ملک سکندر کے مطابق عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف حکومت مخالف اتحاد میں شامل جماعتوں کے کارکن بدھ کو صبح آٹھ بجے سے دوپہر دو بجے تک تمام قومی شاہراہوں کو بند رکھیں گے۔

فائل فوٹو
فائل فوٹو

ملک سکندر نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ ان کے کارکنوں نے کوئٹہ سے کراچی، کوئٹہ سے تفتان، کوئٹہ سے چمن، کوئٹہ سے ژوب اور کوئٹہ سے سکھر جانے والی قومی شاہراہوں کو بڑے پتھر اور گاڑیاں کھڑی کر کے بند کر دیا ہے اور بدھ کی شام مبینہ دھاندلی کے خلاف مخلف شہروں میں جلوس نکالے جائیں گے۔

ہمارے نمائندے کے مطابق صوبائی دارالحکومت کو صوبے کے دیگر شہروں اور صوبوں سے ملانے والی قومی شاہراہوں کی بندش کے باعث لوگوں بالخصوص کوئٹہ آنے والے والے مریضوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور بعض مقامات پر خواتین اور بچوں سمیت لوگ پیدل کوئٹہ کی طرف آ رہے ہیں۔

پولیس اور لیویز حکام کے بقول اس وقت تک صوبے کے کسی بھی علاقے میں کوئی نا خوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا اور سیاسی کارکن پر امن احتجاج کر رہے ہیں۔

کراچی سے ہمارے نمائندے خلیل احمد کے مطابق متحدہ مجلسِ عمل میں شامل جماعت جمعیت علماء اسلام نے کراچی کے بھی تین مرکزی داخلی راستوں پر بدھ کو دھرنے دینے کا اعلان کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG