رسائی کے لنکس

logo-print

شہباز کے بعد نواز شریف کے بھی دورۂ سعودی عرب کی اطلاعات


فائل فوٹو

اطلاعات کے مطابق عدالتِ عظمٰی کی طرف سے نا اہل قرار دیے جانے والے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف بھی رواں اختتامِ ہفتہ سعودی عرب جائیں گے۔

پاکستان میں حزبِ مخالف کی ایک بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینئر رہنما اور قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف خورشید شاہ نے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے دورۂ سعودی عرب پر سوال اٹھایا ہے۔

اطلاعات کے مطابق عدالتِ عظمٰی کی طرف سے نا اہل قرار دیے جانے والے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف بھی رواں اختتامِ ہفتہ سعودی عرب جائیں گے۔

اپنے ایک بیان میں خورشید شاہ نے کہا ہے کہ ملک کے موجودہ سیاسی حالات میں شریف خاندان کے ان دوروں کو اُن کے بقول عوام غور سے دیکھ رہے ہیں۔

’’آج قوم دیکھ رہی ہے۔ بڑے غور سے دیکھ رہی ہے کہ سعودی عرب کیوں گئے ہیں؟ کس لیے جا رہے ہیں؟ کیا وجہ ہے؟ اب اگر اس کے بعد کچھ ہوتا ہے اور معاملہ ٹھیک ہونے کی طرف جا رہا ہے کہ بس سعودی عرب بیچ میں پڑ گیا۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان ایک جوہری طاقت ہے اور یہاں کے حکمرانوں کو فیصلے ملک ہی میں کرنے چاہیں۔

’’پاکستان کی اپنی پالیسی ہونی چاہیے۔۔۔ اپنا آئین ہے۔ ہمیں فیصلے خود کرنے چاہئیں۔ دوسروں کے دروازوں کو کھٹکٹھانا میرے لیے تکلیف دہ ہے وہ بھی اس لیے کہ جو آج کل کا ماحول ہے عدالتوں نے سزائیں دی ہیں۔ آج جو ہو رہا ہے وہ معافی تلافی کی طرف نظر آتا ہے کہ این آر او آپ بھی پوچھ رہے ہیں۔۔۔ اگر اس قسم کی باتیں ہو گئیں تو پھر بڑے بڑے لمبے موٹے تالے دینے پڑیں گے اپنے اداروں کو۔‘‘

وزیرِ داخلہ احسن اقبال نے اپنی جماعت کی قیادت کی طرف سے سعودی عرب کے دورے کے بارے میں کہا ہے کہ اس میں سیاست نہیں ڈھونڈنی چاہیے۔

’’سعودی عرب جو ہے سال میں ہر وقت کوئی نہ کوئی ایم این اے، ایم پی اے، وزیر وہاں پر عمرے کی ادائیگی کے لیے گیا ہوتا ہے۔ یہ میڈیا کا حسنِ نظر ہے کہ وہ کسی جانے والے کو دیکھ لیتا ہے، کسی جانے والے کو نہیں دیکھتا۔ تو وہاں پر جاتے ہیں عبادت کے لیے۔ ضروری نہیں ہے کہ ہر کوئی وہاں سیاست کرنے جائے۔‘‘

یہ تمام پیش رفت ایسے وقت ہو رہی ہے جب ملک میں ایسی قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں کہ سعودی عرب ایک مرتبہ پھر پاکستان میں نواز شریف اور ریاستی اداروں کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔

تاہم حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کی طرف سے ایسی قیاس آرائیوں کی نفی کی جاتی رہی ہے۔

نواز شریف کے چھوٹے بھائی شہباز شریف بدھ کو سعودی عرب پہنچے تھے اور اُنھیں لینے کے لیے سعودی حکومت نے ایک خصوصی طیارہ بھیجا تھا۔

اپنے اس دورے کے دوران شہباز شریف کی اعلیٰ سعودی قیادت سے ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔

سنہ 1999 میں اس وقت کے فوج کے سربراہ پرویز مشرف کی طرف سے نواز شریف کی حکومت کے خاتمے کے بعد شریف خاندان لگ بھگ سات سال تک سعودی عرب میں مقیم رہا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG