رسائی کے لنکس

بہترین فلم کا آسکر ایوارڈ مون لائیٹ کے نام


مون لائیٹ فلم کے ہدایتکار و مصنف بیری جنکینز نے آسکر ایوارڈ وصول کیا

دنیائے فلم کے معتبر ترین ایوارڈ "آسکر" کی تقریب امریکی شہر لاس اینجلس میں اتوار کی شام دیر گئے ہوئی جس میں سال کی بہترین فلم کا اعزاز "مون لائیٹ" نے حاصل کیا جب کہ اداکار کیسی افلیک کو فلم "مانچسٹر بائی دا سی" میں ان کی اداکاری پر بہترین اداکار اور ایما اسٹون کو فلم "لا لا لینڈ" میں ان کی کارکردگی پر بہترین اداکارہ کے آسکر سے نوازا گیا۔

میوزیکل فلم "لا لا لینڈ" اب تک ہونے والے دیگر کئی بڑے ایوارڈز حاصل کرنے میں کامیاب رہی تھی اور آسکر کے لیے بھی یہ فلم درجن بھر سے زائد مختلف شعبوں میں نامزد ہوئی تھی۔

89 ویں آسکر ایوارڈز کی تقریب میں اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہو گئی جب میزبان وارن بیٹے نے بہترین فلم کا اعلان کرتے ہوئے مون لائیٹ کی جگہ غلطی سے لا لا لینڈ کا اعلان کر دیا۔

بعد ازاں انھوں نے کہا کہ لا لا لینڈ کا نام غلطی سے پکارا گیا لیکن اس فلم کے پروڈیوسر جان ہاؤٹز نے کہا کہ "یہ کوئی مذاق نہیں ہے، مجھے ڈر ہے کہ انھوں نے یہ غلط پڑھا ہے۔''

پھر وارن بیٹے نے انھیں آسکر کی فاتح فلم کا کارڈ دکھایا جس پر ہاؤٹز نے اسٹیج فلم مون لائیٹ کے پروڈیوسر کے حوالے کر دیا۔

بہترین ہدایتکار کا ایوارڈ لا لا لینڈ کے ڈائریکٹر ڈامین شازیل کے حصے میں آیا۔

مہرشالا علی اپنے آسکر ایوارڈ کے ساتھ
مہرشالا علی اپنے آسکر ایوارڈ کے ساتھ

سیاہ فام امریکی اداکار مہرشالا علی کو مون لائیٹ میں ان کی اداکاری پر بہترین معاون اداکار جب کہ سیاہ فام ویولا ڈیوس کو فلم "فینسز" کے لیے بہترین معاون اداکارہ کا آسکر دیا گیا۔

غیر ملکی زبان میں بنائی گئی فلموں کے شعبے میں بہترین فلم کا آسکر ایران کی فلم "دی سیلزمین" کے حصے میں آیا۔ اس فلم کے مصنف و ہدایتکار اصغر فرہادی کے لیے یہ دوسرا آسکر ایوارڈ تھا۔ اس سے قبل وہ 2011ء میں اپنی فلم "اے سیپریشن" کے لیے بھی آسکر جیت چکے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے جاری کردہ عارضی سفری پابندی کے حکم نامے پر احتجاج کے طور پر فرہادی نے آسکر تقریب کا بائیکاٹ کیا۔

ان کی جگہ ایرانی خلانورد انوشہ انصاری نے یہ آسکر ایوارڈ وصول کیا اور فرہادی کی طرف سے دیا گیا ایک بیان پڑھ کر سنایا۔

بیان میں فرہادی نے کہا کہ "میں معذرت چاہتا ہوں کہ میں آج شب آپ کے ساتھ نہیں ہوں۔ میری غیر حاضری اپنے ملک اور ان دیگر چھ ممالک کے عوام کے ساتھ اظہار احترام کی وجہ سے ہے، جن پر امریکہ میں داخل نہ ہونے کے غیر انسانی قانون کے تحت ہتک کی گئی۔"

بہترین دستاویزی فلم "او جے میڈ ان امریکہ" کے حصے میں آیا جو کہ سابق فٹبالر او جے سمسن کی زندگی پر بنائی گئی فلم ہے۔ اس سابق کھلاڑی اپنی سابقہ اہلیہ کے قتل کے الزام میں مقدمے کا سامنا کرنا پڑا تھا جس میں انھیں بے قصور قرار دیا گیا۔

ماضی میں آسکر ایوارڈز میں سیاہ فام اداکاروں کے ساتھ "امتیازی" رویہ رکھے جانے کے الزامات بھی سامنے آتے رہے۔

لیکن "مون لائیٹ"، "فینسز" اور "ہڈن فیگرز" فلموں میں کام کرنے والے چھ مختلف سیاہ فام اداکاروں کو اس سال آسکر کی نامزدگی ملی تھی جب کہ بہترین دستاویزی فلم کے لیے نامزد پانچ میں سے چار فلموں کے فلمساز بھی سیاہ فام تھے۔

XS
SM
MD
LG