رسائی کے لنکس

logo-print

آسکر ایوارڈز کیلئے پاکستانی فلمسازوں کی’تلاش‘ شروع


فلم میکرز 25 اگست تک اکیڈمی کے پاس اپنی فلمیں جمع کراسکیں گے، جس کے بعد کمیٹی ان فلموں کا جائزہ لے کر چنیدہ فلموں کو آسکرز کے لئے بھیجا جائے گا

پاکستان کی جانب سے 87ویں اکیڈمی ایوارڈز یعنی’آسکرز‘ کی تیاریاں شروع ہو گئی ہیں۔

پاکستانی اکیڈمی کی سلیکشن کمیٹی نے ’فارن لینگویج فلم ایوارڈز‘ کی کیٹیگری کے لئے فلم میکرز کو اپنی فلمیں اکیڈمی کے پاس جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان کر دیا ہے۔

فلم میکرز 25 اگست تک اکیڈمی کے پاس اپنی فلمیں جمع کراسکیں گے، جس کے بعد کمیٹی ان فلموں کا جائزہ لے گی، اور بعد میں ان میں سے چنیدہ فلموں کو آسکرز کے لئے بھیجا جائے گا۔

سال 2013ء میں سلیکشن کمیٹی نے ’زندہ بھاگ‘ کو نامزدگی کی غرض سے بھیجا تھا۔ پچاس سالوں کے دوران پاکستان کی ’فارن لینگویج فلم ایوارڈ‘ کیٹیگری کے لئے نامزد کی غرض سے بھیجی جانے والی یہ پہلی فلم تھی جبکہ ’زندہ بھاگ‘ کے علاوہ تین دیگر فلمیں ’چنبلی‘، ’جوش‘ اور ’لمحہ‘ بھی سلیکشن کمیٹی کو نامزدگی کی غرض سے موصول ہوئی تھیں۔

سال 2014ء کے لئے سلیکشن کمیٹی آسکر ایوارڈ جیتنے والی دستاویزی فلم کی تخلیق کار شرمین عبید چنائے، سینئر فلم میکر مہرین جبار، مصنف محسن حمید اور اداکار و سنگر علی ظفر پر مشتمل ہے، جبکہ دیگر نامور شخصیات میں ڈائریکٹر پروڈیوسر ارم پروین بلال، اداکار ماڈل اور سنگر میشا شفیع، ثمینہ پیرزادہ، نادیہ جمیل و دیگر شامل ہیں۔

مذکورہ کیٹیگری کے لئے سلیکشن کمیٹی صرف ایک فلم منتخب کرکے اسے آسکرز کی نامزدگی کے لئے آگے بھیجے گی۔ اس فلم کا اعلان 15ستمبر کو کیا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG