رسائی کے لنکس

logo-print

ادلب: روسی فضائی کارروائی، گولہ باری؛ 235000 افراد کا انخلا


معرۃ النعمان

اقوام متحدہ نے بتایا ہے کہ اس ماہ روسی قیادت میں ہونے والی فضائی کارروائی اور گولہ باری کے دوران باغیوں کے زیر قبضہ شمال مغربی شام میں دو لاکھ 35 ہزار شہری اپنے گھر بار چھوڑ کر علاقے سے بھاگ نکلے ہیں۔

انسانی ہمدردی کے کام سے متعلق اقوام متحدہ کے رابطے کے دفتر نے کہا ہے کہ لوگوں کا یہ انخلا 12 سے 25 دسمبر کے دوران واقع ہوا۔

زیادہ تر لوگ معرۃ النعمان شہر، اور جنوبی صوبہ ادلب کے قصبہ جات اور گائوں، ادلب شہر اور شام ترکی کی سرحد کے ساتھ ولاقے میں قائم کیمپ چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ''شمال مغربی شام میں تشدد کی کارروائیوں میں آنے والی اس حالیہ تیزی کے نتیجے میں ادلب کے علاقے کے شہری مشکل میں پھنس چکے ہیں، جو طویل مدت سے جاری مخاصمانہ صورت حال کے تباہ کن اثرات ہیں''۔

ادارے نے کہا ہے کہ معرۃ النعمان اور اس سے ملحقہ مضافات تقریباً خالی ہو چکے ہیں۔

ادھر، شامی افواج معرۃ النعمان کی جانب پیش قدمی کر رہی ہیں۔

اب بھی ہزاروں خاندان ایسے ہیں جو فضائی حملوں اور گولہ باری کے ڈر سے باہر نکلنے سے خوف زدہ ہیں۔

ابو المجید ناصر، جو اپنے اہل خانہ کے ساتھ تلماناس کے قصبے سے بھاگ نکلے ہیں، کہا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن ''چاہتے ہیں کہ حکومت کی مخالفت کرنے والے ہر شامی کو ہلاک کیا جائے''۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG