رسائی کے لنکس

logo-print

شام کے سرحدی علاقے میں بم دھماکے میں 10 افراد ہلاک


دھماکے میں ایک ہی خاندان کے چار افراد بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

شام کے ترکی کے قریب سرحدی علاقے میں کار بم دھماکے میں 10 افراد ہلاک جبکہ 25 زخمی ہو گئے۔ ترکی اور کردوں نے ایک دوسرے پر دھماکے کا الزام عائد کیا ہے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق جس سرحدی علاقے میں کار بم دھماکہ ہوا ہے اس پر گزشتہ ماہ ترکی کی حامی فورسز نے قبضہ کیا تھا۔

ترکی کی فوج کی شام میں کارروائی کے بعد تل ابیض پر قبضے کے لیے شدید لڑائی ہوئی تھی۔ یہ ان دو علاقوں میں شامل ہے جس پر ترکی کی حامی فورسز قبضہ کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں۔

شمال مشرقی شام میں ترکی نے کردوں کی تنظیم وائی پی جے کو نشانہ بنانے کے لیے آپریشن شروع کیا تھا۔ انقرہ وائی پی جے اور اس کے حامی کردوں کو باغی قرار دیتا ہے جبکہ وائی پی جے ترکی کی پی کے کے کی حامی ہے۔ پی کے کے کو بھی انقرہ باغی قرار دے چکا ہے۔

خیال رہے کہ کرد فورسز نے داعش کے خلاف شام میں لڑائی کے دوران امریکی کی مدد کی تھی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جب شام سے فوجی انخلا کا اعلان کیا تو اس کے ساتھ ہی ترکی نے شام میں کارروائی کا آغاز کر دیا تھا۔

ہفتے کے روز شام کے سرحدی علاقے میں ہونے والے دھماکے کے بعد اس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر بھی سامنے آئیں۔ ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ متاثرہ مقام سے دھواں اور گردو غبار فضا میں بلند ہو رہا ہے۔

شام میں تنازع پر نظر رکھنے والے برطانیہ میں موجود انسانی حقوق کے گروپ سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والوں میں ایک ہی خاندان کے چار افراد بھی شامل ہیں۔

مقامی کونسل کے اراکین کے مطابق علاقہ مکین بم دھماکے کا ذمہ دار کرد تنظیموں وائی پی جی اور پی کے کے کو قرار دے رہے ہیں۔

علاوہ ازیں ترکی کی وزارت دفاع نے بھی کرد گروہ وائی پی جی کو دھماکے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

دوسری جانب کردوں پر مشتمل سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) نے بم دھماکے کا ذمہ دار ترکی کے حامی جنگجوؤں کو قرار دیا ہے۔

ایس ڈی ایف کے ترجمان مصطفیٰ بالی نے ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ میں الزام عائد کیا کہ تل ابیض سے کردوں کو بے دخل کیے جانے کے بعد وہاں کے تمام کاروباری مراکز لوٹ لیے گئے ہیں۔

انقرہ کے حامی جنگجوؤں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ترکی کے 'کرائے کے فوجی' اب باقی رہ جانے والے کردوں کو اس علاقے اور ان کے گھروں سے بے دخل کرنے کے لیے عام آبادی میں دھماکے کر رہے ہیں۔

'رائٹرز' کے مطابق اس طرح کے دھماکے عمومی طور پر ترکی کے حامی گروہوں کے زیر انتظام سرحدی علاقوں میں ہوتے رہے ہیں۔ ان علاقوں میں زیادہ تر عرب آباد ہیں۔

ان دھماکوں کا الزام کرد فورسز پر عائد کیا جاتا ہے۔ کرد فورسز ایسے الزامات کی تردید کرتی ہیں جبکہ ان کا موقف ہے کہ وہ ترکی کے خلاف گوریلا کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ وہ عام آبادیوں کو نشانہ نہیں بناتے۔

واضح رہے کہ ترکی نے اپنی سرحد سے ملحق شام کے شمالی علاقے میں فوجی آپریشن صدر ٹرمپ کے اس علاقے سے فوجی دستے فوری نکالنے کے اعلان کے بعد شروع کیا تھا۔

ترکی کے مطابق وہ 30 کلومیٹر کا علاقہ کرد جنگجوؤں سے خالی کروا کر وہاں ایک محفوظ زون قائم کرنا چاہتا ہے جہاں شام کے ان لاکھوں پناہ گزینوں کو بسایا جائے گا جو اس وقت ترکی میں ہیں۔

ترک فوج شام کی سرحد کے ساتھ 70 میل لمبی اور 30 میل چوڑی پٹی میں اپنا قبضہ مستحکم کرنے میں مصروف ہے۔ اب خالی کرائے گئے زون سے آگے بڑھ کر کرد جنگجوؤں کو مزید پیچھے دھکیلنے کی کارروائیاں بھی کی جا رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG