رسائی کے لنکس

جلاؤ گھیراؤ، احتجاج اور ہنگامے کے درمیان ریلیز ہونے والی بالی وڈ فلم’ پدماوت‘ کی کامیابی میں اس شور شرابے نے کتنا کردار ادا کیا اس بارے میں یقین سے کچھ کہنا تو مشکل ہے لیکن باکس آفس پر’پدماوت‘ ریلیز کے ابتدائی دنوں میں ہی 100 کروڑ کی جانب تیزی سے رواں دواں ہے۔

سنجے لیلی بھنسالی کی فلم’ پدماوت‘ شروع سے ہی تنازعات میں گھری رہی اور یہ سلسلہ سینما گھروں کی اسکرین تک پہنچنے تک جاری رہا۔پہلے فلم کی ریلیز کی تاریخ بدلی پھرنام بدلا گیا اور بالآخر فلم کی نمائش ہوہی گئی۔

بھارتی فلمی ٹریڈپر گہری نظر رکھنےکے لئے مشہور تجزیہ کار ترون آدرش کے مطابق ’پدماوت اب تک پچاس کروڑ روپے سے زائد کما چکی ہے اور تیزی سے سو کروڑ کلب میں شامل ہونے کی طرف بڑھ رہی ہے۔‘

پاکستانی روپوں میں یہ رقم تقریبا 97 کروڑ بنتی ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ چار بھارتی ریاستوں مدھیہ پردیش، گجرات، راجستھان اور ہریانہ میں پدماوت ریلیز ہی نہیں ہو سکی۔

ترون آدرش نے اپنے ٹوئٹ میں کہا ہے کہ فلم نے ریلیز کے تین دنوں میں 56 کروڑ کا بزنس کیا۔ پہلے دن کے باکس آفس کلیکشنز 5 کروڑ، دوسرے دن 19 کروڑ اور تیسرے روز 32 کروڑ روپے رہے۔

جرمنی، یوکے اور دیگر ملکوں میں پدماوت کی ابتدائی دنوں کی مجموعی آمدنی 8 کروڑ 37 لاکھ بھارتی روپے کے مساوی رہی۔

پاکستان میں پدماوت کے لئے کوئی رکاوٹ نہیں

فلم سے جڑی دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ دیگر بھارتی فلموں کے برعکس ’پدماوت‘ کو پاکستان میں کسی رکاوٹ اور مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ پاکستانی فلم سنسربورڈ نے بغیر کوئی اعتراض یا کانٹ چھانٹ کئے ’پدماوت‘ کو گرین سنگل دیا اور فلم اب پاکستانی سینما گھروں میں زیر نمائش ہے۔

سنسر بورڈ کے چیئرمین مبشرحسن نے ٹوئٹر پر پدماوت کو نمائش کی اجازت دینے کا اعلان کیا تھا۔

کیسی ہے پدماوت؟
’ہم دل چکے صنم‘، ’گولیوں کی راس لیلا۔۔ رام لیلا‘،باجی راؤ مستانی‘،’دیو داس‘ اور ’ہم دل چکے صنم‘ کے بعد ’پدماوت‘ میں بھی سنجے لیلا بھنسالی کا ’سگنیچر اسٹائل‘ نظر آیا۔

شاندار سیٹ، آنکھوں کو خیرہ کرنے والے ملبوسات اور زیورات ،رنویر سنگھ اور دپیکا پڈکون کی میگا جوڑی کے باوجود پدماوت دیکھنے والوں میں سے بیشتر نے فلم کی کہانی کو کمزور اور تاریخی حوالوں سے کوسوں دور قرار دیا۔ علاؤ الدین خلجی کو ولن دکھانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگانا بھی شائقین کو کچھ زیادہ بھایا نہیں۔

پدماوت کی ریلیز کی بے چینی سے منتظر سنجے لیلا بھنسالی کی فلموں کی فین سلمیٰ ہارون نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ میں فلم کا بہت انتظار کر رہی تھی اور ریلیز ہوتے ہی دیکھنے آئی لیکن کپڑوں اور زیورات کے علاوہ کچھ اچھا نہیں لگا بلکہ مایوسی ہی ہوئی۔

بھارت میں بھی پدما وت کو کچھ ایسے ہی تبصروں اور ری ویوز کا سامنا ہے۔ این ڈی ٹی وی، ہندوستان ٹائمز اور دیگر چینلز اور اخبارات بھی فلم کے اسکرپٹ کو معمولی قرار دے رہے ہیں۔

بھارتی ناول اورکالم نگار شوبھا ڈے نے پدما وت کو اوسط درجے کی فلم قرار دیا۔ اینکر پرسن برکھا دت نے پدما وت کے خلاف مظاہروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فلم میں ایسا کچھ نہیں تھا جس کے لئے بات کا بتنگڑ بنایا جاتا۔

اب جبکہ پدما وت سینما گھروں میں زیر نمائش ہے، فلم کے خلاف احتجاج کرنے والی تنظیم ’کرنی سینا‘ نے ایک اور دلچسپ اعلان کر ڈالا۔

کرنی سینا کا کہنا ہے کہ وہ پدما وت کے ڈائریکٹر سنجے لیلا بھنسالی کی والدہ پر ایک فلم بنانے جا رہے ہیں جس کا نام ہو گا ’لیلا کی لیلا‘

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG