رسائی کے لنکس

logo-print

پاک افغان سرحدی باڑ کے لیے دو ارب روپے مختص: تجزیہ کار


چمن بارڈر

برگیڈئر محمود شاہ کا کہنا تھا کہ یہ باڑ امریکہ اور میکسیکو کی دیوار سے خاصی مختلف ہوگی۔ بقول اُن کے، ’’باڑ کے ساتھ جگہ جگہ فوج بھی تعینات ہوگی‘‘۔ اُنھوں نے کہا کہ اِس کے لیے دو ارب روپے مختص کیے گئے ہیں

پاکستان نے افغانستان کے ساتھ جس طرح باڑ لگانا شروع کی ہے، اس کی امریکہ اور میکسیکو کے درمیان تعمیر ہونے والی دیوار کے ساتھ کیا مشابہت ہو سکتی ہے۔

اس پر نفیسہ ہودھ بھائے نے فاٹا کے سابق سکیورٹی سربراہ، بگیڈئر (ر) محمود شاہ، افغان نژاد صحافی سمیع یوسف زئی اور واشنگٹن میں ایک اخباری مدیر، علی عمران سے بات کی۔

برگیڈئر محمود شاہ کا کہنا تھا کہ یہ باڑ امریکہ اور میکسیکو کی دیوار سے خاصی مختلف ہوگی۔ بقول اُن کے، ’’باڑ کے ساتھ جگہ جگہ فوج بھی تعینات ہوگی‘‘۔ اُنھوں نے کہا کہ اِس کے لیے دو ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

سمیع یوسف زئی کا خیال تھا کہ پاکستان دفاع سے زیادہ یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ وہ ’ڈورنڈ لائن‘ کے اطلاق میں سنجیدہ ہے، جب کہ علی عمران کا خیال تھا کہ پاکستان کے باڑ لگانے کے دورر رس نتائج برآمد ہوں گے۔

آڈیو رپورٹ سننے کے لیے، کلک کیجئیے:

پاک افغان سرحد پر باڑ کی تعمیر، تجزیہ کاروں کی نظر میں
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:33 0:00


فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG