رسائی کے لنکس

رواں سال پاک افغانستان تعلقات شدید تناؤ کا شکار رہے


پاکستانی فوج عسکریت پسندوں کی آزادانہ آمدو رفت روکنے کے لیے افغان سرحد کے ساتھ آہنی باڑ لگا رہی ہے۔ افغانستان ڈیونڈر لائن کو متنازع قرار دیتا ہے۔

موجودہ سال 2017 افغانستان اور پاکستان کے درمیان الزامات اور تنازعات کی نظر ہو گیا اور دونوں ممالک ایک دوسرے پر دہشت گردوں کی پشت پناہی کا الزام عائد کرتے رہے۔

رواں سال کے دوران پاکستان اور افغانستان کے پیچیدہ تعلقات کی شدت میں اضافہ ہوا اور دونوں اطراف سے ایک دوسرے کے خلاف اپنی زمین کے استعمال کی اجازت دیئے جانے کے الزامات لگائے گیے۔ افغان صدر نے پاکستان پر امن کوششوں میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام لگایا۔

ایک موقع پر ان کا کہنا تھا کہ جس دن سے میں نے اقتدار سنبھالا ہے میں نے پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ لیکن اس کا فائدہ نہیں ہوا۔ ہم نے تنازعات اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے دوطرفہ سہ فریقی چار فریقی اور حتیٰ کہ کثیر فریقی مذاكرات بھی کیے ہیں لیکن زیادہ پیش رفت نہیں ہوئی۔

فروری میں پاکستان میں ایک صوفی بزرگ کے مزار پر خودکش حملے اور پاکستان کی جانب سے اس کا الزام افغانستان میں موجود دہشت گردوں پر لگائے جانے کے بعد طور خم اور چمن کی سرحدیں مہینہ بھر کے لیے بند رہیں ۔ کوئٹہ کو قندهار سے جوڑنے والی سڑک جو چمن کی سرحد سے گذرتی ہے سال میں کئی بار بند ہوئی اور افغان حکام کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں پچاس فیصد تک کمی ہوئی۔

پاکستان کی جانب سے افغانستان کے ساتھ سرحدی علاقے میں باڑ لگانے کی کوشش بھی تنازعے کی وجہ بنی۔

پاکستانی فوج کے ایک اعلیٰ عہدے دار میجر جنرل نعمان ذکریا کا کہنا تھا کہ

اسے باڑ لگا کر مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا۔ سرحد ی قلعوں کو مکمل کیا جائے گا۔ دسمبر 2018 تک بین الاقوامی سرحد کا کوئی ایسا علاقہ نہیں ہو گا جو ہماری نگرانی میں نہیں ہوگا۔

پاکستان سرحدی باڑ ھ کو سرحد کے آر پار عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت کنٹرول کرنے کا بہترین طریقہ سمجھتا ہے جبکہ افغانستان اسے پاکستان کی جانب سے ڈیورنڈ لائن کے متنازعہ علاقے کو سرحد میں بدلنے کی کوشش کہتا ہے۔

افغانستان نے پاکستان پر متعدد بار افغان طالبان کی پشت پناہی کا الزام لگایا ۔ جبکہ دونوں جانب سے سارا سال سرحد پر ہونے والی گولہ باری سے بہت سے شہری اور فوجی ہلاک ہوئے ۔

اگست میں امریکہ کی جنوبی ایشیائی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے پاکستان کو افغانستان کی خراب ہوتی سیکیورٹی صورت حال کے لیے مورد الزام ٹھہرایا۔

انہوں نے کہا تھا کہ ہم نے پاکستان کو کئی ارب ڈالر دیے ہیں۔ اس کے باوجود انہوں نے ان دہشت گردوں کو پناہ دے رکھی ہے جن سے ہم نبردآزما ہیں۔ لیکن اس میں تبدیلی لانی ہو گی اور یہ تبدیلی فوراً آئے گی۔

صدر ٹرمپ کی جانب سے بھارت کو افغانستان میں کلیدی کردار ادا کرنے کی اپیل پر پاکستان سے سخت رد عمل سامنے آیا۔

تب سے تینوں فریقین کے درمیان تعلقات میں کچھ تبدیل نہیں ہوا۔ درپردہ سفارت کاری کے ذریعے مسئلے کے حل کے لیے کوششیں البتہ جاری ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG