رسائی کے لنکس

پاکستان کا تجارت کے فروغ کے لیے سرحدی کمپلیکس بنانے کا منصوبہ


اس منصوبے کی تکمیل کے بعد سامان کی جانچ کے عمل میں وقت بہت کم صرف ہو گا اور جدید آلات کے سبب سکیورٹی بھی بہتر ہو سکے گی۔

پاکستان میں ٹیکس وصولی کے وفاقی ادارے 'فیڈرل بورڈ آف ریونیو' (ایف بی آر) نے تین جدید سرحدی کمپلیکس بنانے کی اصولی منظوری دے دی ہے۔

یہ مجوزہ مراکز طورخم، چمن اور واہگہ کے مقام پر بنائے جائیں گے تاکہ سرحد کے آر پار تجارت کے عمل کو سہل اور تیز بنایا جائے۔

اس منصوبے کی تکمیل کے بعد سامان کی جانچ کے عمل میں وقت بہت کم صرف ہو گا اور جدید آلات کے سبب سکیورٹی بھی بہتر ہو سکے گی۔

پاکستان افغانستان مشترکہ چیمبر آف کامرس کے بانی صدر زبیر موتی والا نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا ہے کہ یہ ایک خوش آئندہ پیش رفت ہے۔

’’جس طرح سے ہم یہاں سے بارڈر سے پار کرتے ہیں اور جیسے ہمارے مال رکے ہوئے ہوتے ہیں تو ایسا طریقہ کار ہو جس کے اندر کسی کی سنوائی بھی ہو اور اس کے اندر ہر ساز و سامان موجود ہو جو چیک کرنا ہے وہ چیک کریں۔۔۔ میرا خیال ہے کہ یہ پاکستان کا ایک اچھا فیصلہ ہے۔۔۔ بہت ساری تجارت بڑھ سکتی ہے اور اس پر ہمارا بڑا مثبت اثر آ سکتا ہے۔‘‘

پاکستان اور افغانستان کے درمیان زمینی تجارت زیادہ تر صوبۂ بلوچستان میں چمن جب کہ خیبر ایجنسی میں طورخم کی سرحدی گزرگاہوں کے ذریعے ہوتی ہے۔

گزشتہ ماہ ہی پاکستان افغانستان مشترکہ چیمبر آف کامرس کی ’’ایگزیکٹو باڈی‘‘ کے اجلاس میں دونوں ملکوں کے تاجروں نے کہا تھا کہ دو طرفہ تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے۔

واضح رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تناؤ کے سبب دوطرفہ تجارت میں گزشتہ دو برس کے دوران نمایاں کمی آئی ہے۔ جب کہ اس صورت حال میں افغانستان کی ایران کے ساتھ تجارت میں اضافہ ہوا ہے۔

دونوں ملکوں کے تاجروں اور صنعت کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان تجارت کو دیگر معاملات سے الگ رکھیں۔

پاکستان افغانستان مشترکہ چیمبر آف کامرس کی طرف سے مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ نہ صرف سرحدی راستوں کے ذریعے تجارت کے سامان کی آمد و رفت کو آسان بنانے کے لیے اقدامات ضروری ہیں بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ کشیدگی کی صورت میں ان راستوں کو بند نہیں کیا جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG