رسائی کے لنکس

باجوہ ڈاکٹرائن کا مطلب صرف پرامن پاکستان ہے، ترجمان پاک فوج


ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور

علی رانا

پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ باجوہ ڈاکٹرائن کا 18 ویں ترمیم، عدلیہ اور این آر او سے کوئی تعلق نہیں۔ باجوہ ڈاکٹرائن کا مطلب صرف ایک ہے اور وہ ہے پرامن پاکستان۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ سپرپاور ہے لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے تعاون سے ہی امریکہ سپر پاور بنا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ نقیب اللہ قتل کیس کے معاملہ پر زیادہ شور افغانستان کی طرف سے اٹھایا گیا۔

ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے راول پنڈی میں نیوز بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹوئٹ سے باہمی تعلقات پر فرق پڑا، اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ سپرپاور ہے لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے تعاون سے ہی امریکہ سپر پاور بنا ہے۔

دنیا جغرافیائی سیاست سے جغرافیائی معیشت کی طرف بڑھ رہی ہے، لہذا جغرافیائی سیاست کی نظر سے معاملات کو دیکھنے سے حالات ٹھیک نہیں ہوں گے بلکہ جغرافیائی معیشت کے حوالے سے دیکھنا ہوگا۔ پاکستان نے دنیا کے لیے مثبت کردار ادا نہ کیا ہوتا تو امریکہ واحد سپر پاور نہ ہوتا۔

میجرجنرل آصف کا کہنا تھا کہ غیر مستحکم پاکستان بھارت کے مفاد میں نہیں، اگر ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ نہ لڑتے اور القاعدہ کو شکست نہ دیتے تو یہ خطرہ بھارت تک پہنچ چکا ہوتا۔ بھارت کو بھی ہمارا شکریہ اداکرنا چاہیے۔

بھارت نے کوئی مہم جوئی کی توسخت جواب ملے گا۔ بھارت نے 2017 میں لائن آف کنٹرول پر سب سے زیادہ خلاف ورزیاں کیں۔ رواں سال کے پہلے تین ماہ میں بھی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے 948 واقعات ہو چکے ہیں۔ اسے یہ سلسلہ ختم کرنا چاہیے۔ بھارت نے مس ایڈونچر کیا تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔

باجوہ ڈاکٹرائن کےحوالے سےایک سوال پرمیجرجنرل آصف غفورنےکہا کہ باجوہ ڈاکٹرائن ملک کی سلامتی اورامن و امان کی صورت حال سے متعلق ہے۔ یہ ہر پاکستانی کی ڈاکٹرائن ہونی چاہیے۔باجوہ ڈاکٹرائن کا 18 ویں ترمیم،عدلیہ،این آراوسےکوئی تعلق نہیں۔ باجوہ ڈاکٹرائن کا مطلب صرف ایک ہے اور وہ ہے پرامن پاکستان، کچھ اور مطلب نہ لیا جائے۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ سب سے پہلا چیلنج پاکستان کے لیے سی پیک ہے۔ سی پیک سے پورا خطہ مستفید ہوگا اور اس کو کامیاب بنانا چاہتے ہیں۔ پاکستان کا خطے میں امن کا کردار مثبت انداز میں دیکھا جانا چاہیے۔ چاہتے ہیں کہ پاکستان کی کامیابیوں سے دوسرے ممالک بھی مستفید ہوں اور پاکستان کے ساتھ مثبت انداز میں چلیں۔ ملک میں امن و امان کی صورت حال بہتر ہونے سے معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ سعودی عرب کو سلامتی کے زیادہ خطرات درپیش ہیں تو انہوں نے مزید فوج مانگی ہے۔ پاکستانی فوج صرف سعودی عرب کی سرحدی حدود کے اندر ہوگی اور ایران کے خلاف کسی عمل کا حصہ نہیں ہوگی۔ سعودی عرب بھیجی جانے والی پاکستانی فوج کا ’اسلامی فوجی اتحاد‘ سے کوئی تعلق نہیں ہوگا اور یمن جنگ کا حصہ بھی نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب سے 1982 کے باہمی معاہدے کے تحت ہی پاکستانی فوج وہاں جائے گی جو صرف مشاورتي و تربیتی خدمات فراہم کرے گی۔

آرمی چیف کے دورہ ایران پر ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے حالیہ دورہ ایران کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تعاون میں اضافہ ہوا، جس کے بعد سیکیورٹی سربراہان کی ملاقاتیں ہوئیں، دو سرحدی گزرگاہوں گبت اور مانکی کو کھولنے کے لیے بات چیت ہو رہی ہے، اس دورے سے بلوچستان کی سیکیورٹی کے حساب سے بہتر اثرات مرتب ہوئے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے ملکی حالات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ آج کا کراچی 2013 سے بہت مختلف ہے جب ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری بہت زیادہ تھی، آج کوئی شٹر ڈاؤن ہڑتال نہیں ہوتی اور کوئی نو گو ایریا نہیں۔ کراچی میں ابھی بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔ آپریشن ردالفساد میں ابھی تک 26 بڑے آپریشنز ہوئے۔ آپریشن ردالفساد ایک مشکل آپریشن تھا۔ نقیب اللہ محسود کیس کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ نقیب اللہ محسود کے قتل کا کیس عدالت میں ہے۔ اس مقدمے میں ملوث سابق ایس ایس پی راؤ انوار سپریم کورٹ میں پیش ہوئے۔ نقیب محسود کے قتل کے ذمے داروں کو قانون کے مطابق سزا ملنی چاہے۔ اس معاملہ پر زیادہ شور افغانستان کی طرف سے اٹھایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں امن و امان کے قیام میں انٹیلی جنس ایجنسیوں خصوصا آئی ایس آئی، ایم آئی اور آئی بی نے اہم کردار ادا کیا اور 7 بڑے دہشت گردی کے نیٹ ورکس ختم کیے جن میں انصار الشریعہ، جماعت الاحرار کرم ، ٹی ٹی ایس لاہور، ٹی ٹی پی صوابی، ٹی ٹی ایس دیر سوات اور انتقام وزیرستان گروپ شامل ہیں۔ 16 خودکش بمبار گرفتار کیے جو افغانستان سے آئے تھے جن میں 9 افغان شہری شامل ہیں جنہیں مناسب وقت پر میڈیا کے سامنے لایا جائے گا۔ 11 کیسز کو حل کیا ہے اور 573 ممکنہ حملوں کو روکا ہے۔

بعد ازاں صحافیوں سے غیر رسمی گفت گو میں ترجمان پاک فوج نے فیض آباد دھرنا میں ضامن ہونے سے انکار کیا اور کہا کہ پاک فوج کا صرف معاہدہ کرانے میں کردار تھا۔ ٖملک دھرنے سمیت کسی بھی غیر آئینی سرگرمی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ فوج کسی دھرنے کا حصہ تھی نہ آئندہ کبھی ہوگی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG