رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان مون سون بارشوں سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں


پاکستان مون سون بارشوں سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں

بین الاقوامی امدادی تنظیم آکسفیم نے کہا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ سال سیلاب سے ہونے والی تباہی کے بعد متاثرہ علاقوں میں بحالی کا کام ابھی پوری طرح مکمل نہیں ہوسکا ہے اور مون سون کی حالیہ بارشوں سے نمٹنے کے لیے بھی ملک میں مناسب تیاری نہیں کی گئی ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ سیلاب سے متاثر ہونے والے آٹھ لاکھ خاندانوں کے پاس ایک سال گزرنے کے بعد بھی رہنے کے لیے مناسب انتظام نہیں جبکہ دریاؤں پر حفاظتی پشتوں کی تعمیر کا کام بھی نہیں ہوسکا ہے۔

برطانوی امدادی ادارے نے کہا ہے کہ پاکستانی حکومت کو سیلاب سے محفوظ گھروں کی تعمیر کرنی چاہیئے جس کے لیے اُسے اضافی بین الاقوامی امداد کی ضرورت ہے اور مستقبل میں اس قدرتی آفت سے بچنے کے لیے ملک میں قبل ازوقت انتباہ کے نظام کوبھی بہتر بنایا جائے۔

گزشتہ سال پاکستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب میں کم از کم 1700 افراد ہلاک اور دو کروڑ سے زائد متاثر ہوئے تھے جبکہ ملک کا 20 فیصد حصہ پانی میں ڈوب گیا تھا۔

پاکستانی اور اقوام متحدہ کے عہدے داروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سال مون سون کی بارشوں سے بیس سے پچاس لاکھ افراد متاثر ہوسکتے ہیں۔ سیلاب سے بچنے کے لیے کئی دیہاتوں میں لوگ پہلے ہی اپنے گھروں کو خالی کرکے اُونچے مقامات کی طرف نقل مکانی کرچکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG