رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستانی ہائی کمشنر کی مشورے کے لیے طلبی معمول کی کارروائی ہے، بھارت


پاکستان اور بھارت کی سرحدی گذرگاہ واہگہ پر گارڈز پر شام کے وقت پرچم اتارنے کا ایک منظر، فائل فوٹو

سہیل انجم

بھارت نے پاکستان کی جانب سے نئی دہلی میں تعینات اپنے ہائی کمشنر سہیل محمود کو برائے مشورہ طلب کرنے کے معاملے کو زیادہ اہمیت نہیں دی اور اسے ایک معمول کی کارروائی قرار دیا۔

وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے یہاں ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ انہیں صلاح و مشورہ کے لیے طلب کیا گیا ہے اور ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ کو بریف کرنا معمول کی بات ہے۔ اس پر ہم مزید تبصرہ کرنا نہیں چاہیے۔ سہیل محمود کو واپس نہیں بلایا گیا ہے۔

رویش کمار نے کہا کہ ہم نے نئی دہلی میں پاکستانی سفارت کار کی کار کا پیچھا کرنے جیسے ان معاملات کو جو پاکستان نے اٹھائے ہیں دیکھ رہے ہیں ۔ ہم ایسے ایشوز پر میڈیا کے توسط سے رد عمل ظاہر کرنے کے بجائے سفارتی چینلوں سے معاملات کو اٹھانا چاہتے ہیں۔ ہم نے اس معاملے کو متعدد بار اٹھایا ہے اور ہمیں امید ہے کہ یہ معاملہ سلجھ جائے گا۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ اسلام آباد میں ہمارا سفارت خانہ مناسب طریقے سے کام کرتا رہے۔

پاکستان نے بھارت سے شکایت کی ہے کہ نئی دہلی میں اس کے سفارت خانہ کے اہل کاروں اور ان کے اہل خانہ کو ہراساں کرنے کے متعدد واقعات پیش آئے ہیں۔

اس شکایت پر نئی دہلی نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ بھارت سفارت کاروں کو کام کرنے کے لیے محفوظ اور خوشگوار ماحول فراہم کرنے کے تعلق سے ہر ممکن کوشش کرتا رہتا ہے۔

اس نے بھی الزام عائد کیا کہ پاکستان میں بھارتی سفارت خانہ کہ عملہ کو پریشان کیا گیا۔ لیکن ہم ایسے معاملات کو میڈیا میں اچھالنے کے بجائے خاموشی اور سفارت کاری کی مدد سے حل کرنے کو ترجيح دیتے ہیں۔

اس کے مطابق پاکستان میں بھارتی اہل کاروں کو ہراساں کرنا ایک نیا مظہر ہے۔ 16 فروری کو بھارتی سفارت کار نے پاکستان کے سیکرٹری خارجہ سے ملاقات کرکے مبینہ غنڈہ گردی کے واقعات پر احتجاج کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG