رسائی کے لنکس

پاکستان اور بھارت کے فوجی کمانڈروں کا ہاٹ لائن پر رابطہ


پاکستان اور بھارت کے زیرانتظام کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول پر رواں سال میں معمول سے زیادہ کشیدگی دیکھنے میں آئی ہے اور دوطرفہ فائرنگ کے واقعات میں دونوں اطراف کی سویلین آبادی کو نقصان پہنچتا رہتا ہے۔

پاکستان اور بھارت کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشز (ڈی جی ایم اوز) کا ہاٹ لائن رابطہ ہوا ہے جس میں پاکستان نے لائن آف کنٹرول پر بھارت کی جانب سے بے گناہ شہریوں کو مبینہ طور پرنشانہ بنانے کا معاملہ اٹھایا ہے۔

اس سلسلہ میں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق پاکستان اور بھارت کے ڈی جی ایم اوز کا مقررہ شیدول سے ہٹ کر ہاٹ لائن رابطہ ہوا ہے جس میں پاک فوج کے ڈی جی ایم او نے لائن آف کنٹرول پر پاکستانی شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کا معاملہ اٹھایا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کا کہنا تھا کہ بھارتی فوج نے لائن آف کنٹرول پر نیزہ پیر، چری کوٹ، اور بٹل سیکٹر میں بلا اشتعال فائرنگ کی۔ بھارتی فوج کا جان بوجھ کر ایل او سی پر معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا غیر پیشہ ورانہ اور غیر اخلاقی ہے۔ اس طرح کی اشتعال انگیزیاں ناقابل برداشت اور جواب دینے کی متقاضی ہیں۔

پاکستانی دفترخارجہ نے گذشتہ روز بھی پاکستان نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ کو دفتر خارجہ طلب کرکے ایل او سی کے چری کوٹ سیکٹر میں بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا تھا۔

پاکستان اور بھارت کے زیرانتظام کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول پر رواں سال میں معمول سے زیادہ کشیدگی دیکھنے میں آئی ہے اور دوطرفہ فائرنگ کے واقعات میں دونوں اطراف کی سویلین آبادی کو نقصان پہنچتا رہتا ہے۔

پاکستان کا اس حوالے سے دعویٰ ہے کہ رواں سال اب تک گیارہ سو سے زائد مرتبہ لائن آف کنٹرول پر سیزفائر کی خلاف ورزی کی گئی جس میں 45 سے زائد عام شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG