رسائی کے لنکس

logo-print

پاک بھارت باہمی مذاکرات کے معاملے پر ’پُرعزم‘: محکمہٴ خارجہ


جان کِربی نے انتہا پسندی اور دہشت گردی کے ’یکساں خطرے سے نمٹنے کے لیے‘، وزیر اعظم نواز شریف اور نریندر مودی کے ’عزم‘ کے اعادے کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’یہ ایک اچھی علامت ہے کہ دونوں ملک تعاون کی فضا کو فروغ دینے کا عزم رکھتے ہیں، جو غیر اہم پیش رفت نہیں‘

امریکی محکمہٴ خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان و بھارت کی اعلیٰ قیادت باہمی مذاکرات کے معاملے پر ’پُرعزم‘ دکھائی دیتی ہے، اور ایک دوسرے سے ’تعاون کے معاملے پر واضح مؤقف رکھتی ہے‘، جو بات، بقول ترجمان، ’حوصلہ دیتی ہے‘۔

جان کِربی نے یہ بات جمعے کے روز اخباری بریفنگ کے دوران ایک سوال پر کہی۔ سوال میں پٹھان کوٹ حملے کا حوالہ دیتے ہوئے، صحافی نے بتایا کہ دیکھا یہ گیا ہے کہ جب بھی دونوں ملک مکالمے کی جانب بڑھتے ہیں، عموماً کوئی ایسا واقع ہو جاتا ہے جس سے دونوں ہمسایہ ملکوں کے درمیان شکوک جنم لیتے ہیں۔ اُن کا حوالہ خارجہ سکریٹری سطح کی پاک بھارت بات چیت کی جانب تھا۔

بقول ترجمان، ’ہم چاہتے ہیں کہ اعلیٰ سطح کا یہ تعاون جاری رہے‘، اور یہ کہ ’مکالمے کو تقویت ملے‘۔

اِس ضمن میں، جان کِربی نے انتہا پسندی اور دہشت گردی کے ’یکساں خطرے سے نمٹنے کے لیے‘، وزیر اعظم نواز شریف اور نریندر مودی کے ’عزم‘ کے اعادے کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’یہ ایک اچھی علامت ہے کہ دونوں ملک تعاون کی فضا کو فروغ دینے کا عزم رکھتے ہیں، جو غیر اہم پیش رفت نہیں‘۔

ترجمان نے اس بات سے اتفاق کیا کہ ’باہمی مذاکرات کے مخالف، دہشت گرد گروہ، ضرور یہ چاہیں گے کہ اِس راہ سے بھٹکائیں‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’دہشت گرد گروہ یہی کوشش کریں گے کہ شکوک و شبہات پھیلیں‘ اور ’مکالمے کا عمل‘ آگے نہ بڑھے۔

جان کِربی نے کہا کہ ’ہمیں اس بات سے حوصلہ ملا ہے ‘کہ دونوں ہمسائے ’مکالمے کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں‘۔

پٹھان کوٹ کے بھارتی فضائی اڈے پر حملے کے واقعے کے بعد، بقول بھارت، پاکستان کو ’قابل عمل معمولات‘ فراہم کی گئی ہے، جب کہ پاکستانی حکام نے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے۔

ادھر، پاک بھارت خارجہ سکریٹری سطح کے مذاکرات اتفاق رائے سے مؤخر کیے گئے ہیں، جن کی نئی تاریخ کا تعین جلد متوقع ہے؛ اور یہ کہ دونوں ہمسایہ ملک ایک دوسرے سے رابطے میں ہیں۔

XS
SM
MD
LG